سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط55)
نئے دن کا آغاز نئے سفر اور نئے عزم سے شروع کرنے کی تیاری ہے۔ لنگر اٹھا لئے گئے ہیں۔ چمکتی دھوپ میں سندھو کے پانیوں پر راج کرتی ہماری کشتی۔ جیسے جیسے سورج بلند ہو رہا ہے، دھوپ کی حدت بڑھ رہی ہے۔ کشتی پانی کی موجوں پر اڑی جا رہی ہے۔ ہوا پانی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط54)
اگلے دن کی نئی صبح، نئی ہوا۔۔ جبکہ پرانا سورج نئی دھوپ لئے ہے۔ نہائے دو دن ہو چکے ہیں۔ میں نے حضور بخش سے کہا، ”سائیں! کچھ نہانے کا بندوبست ہو سکتا ہے۔“ وہ بولا ”میڈا سائیں! ابھی چادر تان کر نہانے کی جگہ بنا دیتا ہوں۔“ چادر کے بنے اس غسل خانے میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط49)
سندھو سرگوشی میں بتا رہا ہے؛ ”بھنگی خیل کے ’بنی افغاناں‘ رقبے جو پہاڑی نالوں کی وجہ سے اکثر ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتے ہیں، بہت زیادہ محنت اور محافظت چاہتے ہیں لیکن جہاں ان نالوں اور میرا پانی مضبوط پشتے باندھ کر ہموار زمینوں پر پھیلا دیا جاتا ہے، وہاں کی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط44)
جی ٹی روڈ علی الصبح سنسان ہے اور اس کے کنارے وقت کی دھول میں چھپتی ’بہرام کی بارہ دری‘ اشوک اعظم کے دور کے اسٹوپاز، شیر شاہ سوری کی ڈاک چوکی پر بھی ویرانی کا ہی ڈیرہ ہے۔ اس شاہراہ سے گزرنے والے چند ہی لوگ ہوں گے، جن کی توجہ یہ مٹتی گرتی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط41)
ہم ’اٹک برج‘ پہنچے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب کو ملاتا یہ پل تاریخی مقام اور میرے دائیں طرف سے بہتے سندھو اور سامنے کالا چٹا پہاڑ کے دامن سے بہتے دریائے کابل کا سنگم بھی۔ اس پل سے ان دریاؤں کے سنگم کا نظارہ شاندار ہے۔ میرے بائیں ہاتھ جرنیلی سڑک کو…