یہ ’مسائلِ تلفظ‘ یہ ترا بیان غالب
پانی سے سگ گَزیدہ ڈرے جس طرح اسد، ڈرتا ہوں آئنے سے کہ مردم گَزیدہ ہوں۔۔۔ اسد اللہ خاں غالب کا یہ شعر آدم گزیدگی سے پیدا ہونے والی آدم بیزاری کی اُس شِدَّت کا اظہار ہے، جب انسان خود سے بھی خوف کھاتا ہے۔ سرِدست اس شعر میں دلچسپی کا محور لفظ ’گَزیدہ‘ ہے…
تیر، تیغ اور پھر ٹائیگر، الفاظ کا دلچسپ سفر
پہلے ہوتا تھا نظر کے تیر سے، کام اب ہوتا ہے وہ کف گیر سے مروت و مرمت کا فرق سمجھاتا یہ پُرمُزاح شعر ’محمد یوسف پایا‘ کا ہے۔ اس شعر میں ہماری دلچسپی لفظ ’تیر‘ اور ’کف گیر‘ میں ہے فارسی زبان میں ’تیر‘ مختلف معنی میں استعمال ہوتا ہے، مثلاً ایرانی تقویم کا…
زباں فہمی: کیا پنچائتی نظام آریاؤں نے متعارف کروایا تھا
بکھیرتے رہو صحرا میں بیج الفت کے کہ بیج ہی تو ابھر کر شجر بناتے ہیں دشتِ نفرت کو صحنِ الفت میں بدلنے کا نسخہ سُجھانے والے شاعر ’جمیل الدین عالی‘ ہیں۔ ہم ان کے عالی جذبات کی قدر کرتے اور کچھ ’بیج‘ کا ذکر کرتے ہیں ’بیج‘ کی اصل سنسکرت کا ’بیجا/ बीज ‘…