سندھ کے صحرا میں کوئی پھول کھلے۔۔۔ قرة العین حیدر اور سندھی ادب
یہ جنوری 1991 کے دن ہیں۔ قرول باغ دہلی میں قرةالعین حیدر کے فلیٹ کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ پانچ سات منٹ بعد فلیٹ کا دروازہ آدھا کھلتا ہے اور وہ خود دروازے پر ہوتی ہیں۔ کہتی ہیں ”فرمائیے!“ ”فرمانا کیا، آپ کے پڑھنے والے ہیں، سندھ سے آئے ہیں۔“ ”کیا کیا…