مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
یہ بات ہے دسمبر دو ہزار گیارہ کی، اس وقت کے وزیرِ اعلٰی شہباز شریف کی فلاحی اسکیم کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے حسبِ معمول دل کے ایک لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مریضوں کو دواؤں کی مفت سپلائی جاری تھی۔ ان دواؤں میں کراچی کی ایک فارماسيوٹیکل…
مہمانوں کی آمد مرحبا!
بچپن کی یادوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کبھی گھر میں اعلان ہوتا کہ کل پرسوں کوئی اہم مہمان آنے والا ہے اور وہ چند دن قیام بھی کرے گا تو بس پھر کیا تھا، سب لگ پڑتے۔۔ فرش چمکائے جاتے، کونوں کھدروں میں جمع شدہ کچرا کھرچ کھرچ کے صاف ہوتا،…
کرہِ ارض کے اصل مالکان کی حالت
ویسے تو دنیا کی آبادی آٹھ ارب کہی جاتی ہے، مگر اس میں سے صرف پانچ فیصد آبادی ایسی ہے جو ہزاروں برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔ کرہِ ارض کے نوے ممالک میں بائیس فیصد زمین پر پھیلے یہ چار سو چھہتر ملین انسان ان پُرکھوں کی اولاد ہیں، جن کی زمین، ثقافت، وسائل،…
اپنے ہاتھ سے اپنے گلے میں پھندہ ڈالنے کا مزہ!
ان دنوں پارلیمنٹ میں عجلتی قانون سازی کی لوٹ سیل چل رہی ہے کیونکہ موجودہ قومی اسمبلی میں کوئی زوردار اپوزیشن نہیں ہے۔ سینیٹ میں اگرچہ عددی اعتبار سے عمران خان کی پی ٹی آئی ایک موثر حزبِ اختلاف ہے لیکن اس وقت پارٹی قیادت کی مشکیں کَسی ہوئی ہیں، اس لیے…
جانِ من کہاں جا رہی ہو مجھے ڈسے بغیر؟
اس سے پہلے کہ پاکستانی حکومت 30 جنوری کے پشاور خود کش دھماکے کے ڈانڈے کابل سے ملاتی، افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے پشتو کا ایک محاورہ داغ دیا ’پاکستان اپنی چھت پر پڑی برف خود صاف کرے، ہماری چھت پر نہ پھینکے۔‘ اس بیان کے بعد پاکستانی دفترِ خارجہ نے…
حکومت کوئی بھی ہو، غیر محفوظ ہی ہوتی ہے!
مغربی بنگال والے کہتے ہیں کہ جو بنگال آج سوچ رہا ہے، وہ باقی بھارت کل سوچے گا۔اگر میں اس بات کو جنوبی ایشیا کی سطح پر جا کے دیکھوں تو بات کچھ یوں بنے گی کہ جو پاکستان کل کر چکا، وہ بھارت آج کر رہا ہے۔ مثلاً ہم نے پچھلے پچھتر برس میں…
گزر آیا میں چل کے خود پر سے
ضمیر کسی نے نہیں دیکھا مگر ضمیر ہوتا ضرور ہے۔ یہ مطمئن بھی ہوتا ہے، بے چین بھی رہتا ہے، سو بھی جاتا ہے اور کبھی اچانک جاگ بھی پڑتا ہے۔ ضمیر انفرادی بھی ہوتا ہے اور اجتماعی بھی۔۔ جو مطمئن ضمیر ہے، وہ تو خیر ہے ہی مطمئن۔ مگر جو ضمیر پھانس بن کے…