آواران: لیوی اہلکاروں کے ہاتھوں ہراسانی کا شکار، سینکڑوں بچوں کو مفت تعلیم دینے والی ٹیچر کی خودکشی یا قتل؟
”میری بیٹی کو اپنے گاؤں کے بچوں کے مستقبل کی بہت فکر رہتی تھی کیونکہ پورے علاقے میں ایک بھی اسکول نہیں تھا۔ اس نے اپنی جمع پونجی سے گھر کے سامنے جھونپڑی بنا کر خود ہی بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا۔ گذشتہ تین برسوں میں جھونپڑی نما اسکول کے بچوں کی تعداد تین…