کاغذی چڑیا گھر (امریکہ کے چینی ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
آج برسوں بعد مجھے اپنی جو ابتدائی ترین یاد ہے، وہ ہے لگاتار منہ بسورے رکھنا یا بے وجہ ریں ریں کرتے رہنا۔ مجھے یاد پڑتا ھے، ماں اور ابا جتنے بھی اور جیسے بھی جتن کرتے میں جلدی بہلنے پر نہیں آیا کرتا تھا۔ میری کہانی ایسے ایک دن کی یاداشت پر شروع ہوتی…
چلتی ٹرین میں رُکی ہوئی کہانی (منتخب افسانہ)
ٹرین کی کھڑکی بند ہے لیکن بارش کی بوندیں لگاتار اس پر دستک دے رہی ہیں، تیز برستی بارش میں میدانوں میں کھڑے درخت بھی دھندلے دکھائی دے رہے ہیں۔ کھچا کھچ مسافروں سے بھرے اس ڈبے میں موجود لوگ ایک دوسرے کی کہانیوں سے یکسر نابلد ہیں۔ سیٹ نمبر 15 پر بیٹھا…
ذات (منتخب اردو افسانہ)
ملک عابد کا پہلا لقمہ ابھی منہ ہی میں تھا کہ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کا ذائقہ کڑوا ہو گیا ہے۔ اس نے فوراً پانی کا گلاس منہ سے لگا کر نوالہ نگلا۔ اس کی بیوی نے بات ہی ایسی کردی تھی۔ پچھلے پانچ سالوں میں اس نے گاؤں میں اپنی ساکھ بنانے…
آفت زدہ (کینین ادب سے منتخب افسانہ)
طویل عرصے تک میرا بھی یہی یقین تھا کہ وہ پاگل ہے۔ ایسا سمجھنا ایک فطری امر تھا کیونکہ میری ماں نے بتایا تھا کہ وہ پاگل ہے اور گاؤں میں بھی ہر ایک کی یہی رائے تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ بوڑھی عورت نے کبھی کوئی انوکھی حرکت کی ہو جیسا کہ مجنون لوگ…
قیدی کی وردی (مصری ادب سے منتخب افسانہ)
گاڑی کی آمد کا وقت قریب آیا تو ریلوے اسٹیشن زقازیق پر سب سے پہلے پہنچنے والا شخص حجشہ سگرٹ فروش تھا۔ وہ بجا طور پر ریلوے اسٹیشن کو اپنی چلتی منڈی تصور کرتا تھا اور بے مثال پھرتی کے ساتھ پلیٹ فارم پر گھومتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی جہاں دیدہ آنکھوں سے گاہکوں…
میرا دوست، میرا دشمن (شاہکار افسانہ)
میں نے اس دوسری ملاقات کی استدعا اس لیے کی ہے، جنرل، کہ مجھے علم ہوا ہے کہ ہمارے درمیان دس دن قبل جو گفتگو ہوئی تھی، اس کی آپ کی جانب سے بہت منصفانہ اور درست رپورٹنگ کے باوجود، میرے اعمال کی یورپین اخبارات نے بہت غلط تشریح کی اور اسے بالکل غلط سمجھا…
انتظار (انگریزی افسانہ)
وہ کمرے میں کھڑکیاں بند کرنے کے لیے آیا، جب ہم ابھی بستر میں ہی تھے اور میں نے دیکھا کہ وہ بیمار نظر آ رہا تھا۔ وہ کانپ رہا تھا، اس کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا اور وہ آہستہ آہستہ چل رہا تھا، گویا ہر حرکت کے ساتھ اسے درد ہوتا تھا ”شاز،…