دو بیل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
جانوروں میں گدھا سب سے بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔ جب ہم کسی شخص کو پرلے درجہ کا احمق کہنا چاہتے ہیں تو اسے گدھا کہتے ہیں۔ گدھا واقعی بیوقوف ہے یا اس کی سادہ لوحی اور انتہا درجہ کی قوتِ برداشت نے اسے یہ خطاب دلوایا ہے۔ اس کا تصفیہ نہیں ہو سکتا۔ گائے شریف…
صبح کی سرخی
یہ میرے دوست ایوان ساووف کی کہانی ہے جو بلغاری فوج کی تھرڈ بٹالین میں ایک سینئر ماتحت افسر تھا اور میری نگاہوں کے سامنے سرویائی سلسلۂ کوہ میں ایبار اور موراوا کے درمیان قائم کردہ محاذ پر کام آیا۔ جنگِ عظیم کے دوسرے سال کے اواخرِ خزاں میں میری سالگرہ سے…
عالاں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اماں ابھی دہی بلو رہی تھیں کہ وہ مٹی کا پیالہ لئے آ نکلی۔ یہ دیکھ کر کہ ابھی مکھن ہی نہیں نکالا گیا تو لسی کہاں سے ملے گی، وہ شش و پنج میں پڑ گئی کہ واپس چلی جائے یا وہیں کھڑی رہے۔ ’’بیٹھ جاؤ عالاں۔‘‘ اماں نے کہا، ’’ابھی دیتی ہوں۔۔۔ کیسی…
افطار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’روزہ دار روزہ کھلوادے، اللہ تیرا بھلا کرے گا۔۔‘ کی صدائیں ڈیوڑھی سے آئیں۔ ڈپٹی صاحب کی بیگم صاحبہ، جن کا مزاج پہلے ہی سے چڑچڑا تھا، بولیں، ’’نامعلوم کم بخت یہ سارے دن کہاں مر جاتے ہیں۔ روزہ بھی تو چین سے نہیں کھولنے دیتے!‘‘ ’’اللہ تیرا بھلا کرےگا!‘‘ کی…
بُن بَست (منتخب افسانہ)
اس بار وطن آنے کے بعد میں نے شہر میں دن دن بھر گھومنا شروع کیا، اس لیے کہ میرے پاس کچھ کرنے کو نہیں تھا۔ میری اماں سلائی کڑھائی کا کام کرکے جو تھوڑی بہت رقم پیدا کرتی تھیں، وہ ہم ماں بیٹوں کا پیٹ بھرنے کو کافی تھی، بلکہ میرے لیے تو ہمیشہ…
آخری حربہ (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
”یور آنر! میں اپیل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔“ کیلتھ نے کہا۔ ایک لمحے کے لیے کمرہِ عدالت میں خاموشی چھا گئی۔ بس ایک ہلکی سی گونج سنائی دے رہی تھی۔ پھر روبوٹ جج نے جواب دیا۔ ”درخواست منظور کی جاتی ہے۔“ کیلتھ نے سوچا ایک آزاد سرکٹ متحرک ہو گیا ہے۔ اپیلیں…
ڈے کیئر (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہاں ہمیشہ میلہ لگا رہتا تھا۔ کھوے سے کھوا چھلتا۔ خلقت یوں امڈی آتی تھی جیسے مفت کچھ بٹ رہا ہو۔۔ لیکن مفت کچھ بٹتا ہوتا تو کیا سب کے چہرے ایسے ہوتے؟ ستے ہوئے، متردد آنکھوں والے، موت کی پرچھائیاں جن پر رقص کرتی ہوتی تھیں۔۔ اپنی موت کی نہیں تو کسی عزیز کی…
اکتارا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
اِکتارا میرے ہاتھ میں تھا۔ سامنے چٹیل میدان کے دوسرے سرے پر ریت کے ٹیلوں سے دور ناریل کے دو متوازی درخت ساکت اور محوِ حیرت کھڑے ہوئے تھے۔ سب کچھ اداس تھا۔ سارے میں مایوسی کی ایک لہر پھیلی ہوئی تھی اور اِکتارا میرے ہاتھ میں تھا۔۔ رجمنٹ آج ایک سال کے بعد…