تہذیب، تمدّن اور ثقافت میں فرق کیا ہے؟
تھا ہمیں سے کبھی تہذیب و تمدّن کا وقار، ہم کبھی شاخِ گلِ تر، کبھی تلوار بھی تھے شعر ’اقبال انجم‘ کا ہے، جس میں وہ شاخ و شمشیر کے بل پر تہذیب و تمدن کی آبیاری کا احوال سنا رہے ہیں، پر ہمیں سننے سے زیادہ سُنانے میں دلچسپی ہے، سو آگے بڑھتے اور…
مغربی تہذیب کا خنجر
ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے دوران مہاتما گاندھی اپنے عدم تشدد کے فلسفے اور غالباً اپنی گُھٹنوں سے اوپر دھوتی اور چرخہ کاتنے کی وجہ سے مغربی صحافیوں میں مقبول تھے۔ ان سے ایک دفعہ گورے صحافی نے پوچھا کہ آپ کا مغربی تہذیب کے بارے میں کیا خیال ہے؟ مہاتما…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط68)
1922ء میں ’انڈین آرکیالوجی سروے‘ کے ماہر سر جان مارشل نے موئن جو دڑو کی باقیات دریافت کیں۔مُردوں کا یہ ٹیلہ اور ماضی کا اجڑا شہر اب یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج میں شامل ہے۔ اس کی دریافت کو 100 برس مکمل ہو چکے ہیں اور اب تک موجودہ سائیٹ کے ساڑھے پانچ (550)…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط51)
ڈیرہ غازی خاں کے رہنے والے قاسم نقوی (رٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ بلدیات) یہاں ہمارے میزبان ہوں گے۔ تونسہ سے گدو تک کا سفر ہم کشتی میں ہی کریں گے۔ اس سفر کو طے کرنے میں ہمیں 3 دن لگیں گے۔ گدو تک کے سفر میں دوستوں کے علاوہ ڈولفن، غیر ملکی مہمان…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط46)
ہم کابلی دروازے سے قلعے میں داخل ہو کر اصطبل کے قریب سے گزر کر قلعے کے مشرقی حصے کی جانب ایک وسیع صحن میں پہنچے ہیں۔ ہمارے سامنے دو ایس ایس جی کمانڈوز گارڈ پوسٹ پر جدید اسلحہ سے لیس چاق و چوبند کھڑے ہیں۔ یہاں سے ارد گرد پر نظر رکھی جاتی ہے۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط37)
”سکندر کی اگلی منزل پانچ دریاؤں کی سر زمین پنجاب تھی۔ سکندر اعظم ٹیکسلا سے دریائے جہلم ’ہائیڈوپس‘ (یونانی دریائے جہلم کو hydespes کہتے تھے) کے کنارے ’مونگ‘ (منڈی بہاؤالدین کا نواحی قصبہ) پہنچا، جہاں راجہ پورس اور یونانی افواج کے درمیان گھمسان کا رن پڑا،…