سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط48)
کالا باغ کے بارے سندھو نے بتایا؛ ”کالا پشتو زبان کا لفظ ہے مطلب گاؤں یا ڈھوک جبکہ باغ سے مراد باغ ہی ہے۔ کالا باغ یعنی باغ جیسا گاؤں۔ یہ قصبہ میرے مغربی کنارے تحصیل عیسیٰ خیل میں واقع ہے۔ سرائیکی اور ہند کو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لوگ سادہ، پردے کے پابند،…