سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط42)
ہم اٹک قلعہ کی مغربی دیوار کے قریب کھڑے ہیں۔ ہوا ٹھنڈی اور موسم خوشگوار ہے۔ میرے دائیں ہاتھ مشرقی سمت اٹک برج ہے، جس کے نیچے دریاؤں کا باپ اباسین (سندھو اس خطہ میں اباسین بھی کہلاتا ہے) پر سکون بہہ رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی پر سکون ہے، جیسے اژدھا شکار نگل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط41)
ہم ’اٹک برج‘ پہنچے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب کو ملاتا یہ پل تاریخی مقام اور میرے دائیں طرف سے بہتے سندھو اور سامنے کالا چٹا پہاڑ کے دامن سے بہتے دریائے کابل کا سنگم بھی۔ اس پل سے ان دریاؤں کے سنگم کا نظارہ شاندار ہے۔ میرے بائیں ہاتھ جرنیلی سڑک کو…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 38)
باس کہنے لگے، ”اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے شمال میں جہاں جہاں سے سکندر نے سندھو کو عبور کیا، لوگوں کا خون بے دردی سے بہایا لیکن وہاں کے رہنے والے آج بھی اسے دیوتا کی طرح پوجتے اور اپنا جد امجد مانتے ہیں۔ بر صغیر کی تاریخ پر بھی سکندر کی ذات…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط34)
اب ہم خوشحال خاں خٹک کی سرزمین پر ہیں۔۔ گل گنٹردہ دتورے، کہ کابک دے کہ کشمیر۔ میٹرنی دی چہ یادیگی، پہ سمندر وہم پہ دلیر۔۔ (خوشحال خاں خٹک) (فتح تلوار کی مرہونِ منت ہے چاہے کابل ہو یا کشمیر۔ فاتح اور بہادری کو لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اپنے گیتوں میں بھی اور…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط31)
بابو سر ٹاپ کے برفیلے میدان سے جنم لینے والی شفاف برفیلے پانی کی ’ٹھک ندی‘ کے پل سے گزر رہے ہیں۔ کل کے اس گمنام مقام کو آج نام بھی دیا گیا ہے تو ’زیرا پوائنٹ‘۔گمنام کو زیرا پوائنٹ کہنے سے فرق نہیں پڑتا مگر یہ اس شاہراہ کا نیا اہم اسپاٹ بن گیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط29)
شاہراہِ ریشم بائیں گھومتی قراقرم کے پہاڑوں پر بل کھاتی ”رائے کو ٹ برج“ پہنچتی ہے جبکہ میں سیدھا آگے کو رواں ہوں۔۔ سندھو کے پار ہمالیہ کی عمودی چٹانیں اس پر سایہ کئے ہیں۔ کہیں کہیں سبزہ بھی ہے۔ لینڈسلائیڈنگ آج بھی اس شاہراہ کا بڑا خطرہ ہے۔ رائے کوٹ تک کا…