اراولی مزاحمت، کارونجھر جدوجہد اور کھیرتھر پر مسلط خاموشی
جب کسی خطے میں پہاڑ خطرے میں پڑ جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہاں صرف قدرت نہیں، انسان بھی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ آج ہندوستان کے گجرات و راجستھان میں اراولی، سندھ کے تھر میں کارونجھر اور کراچی کے کنارے کھیرتھر اسی انجام کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ…
ندی کے زہر میں دفن تہذیب: ’سوناءِ کُوھر‘ کا المیہ
پہاڑی علاقوں کی وہ ندیاں، جو بارش کے بعد جنم لیتی ہیں اور جھرنوں کی صورت میں بہتے ہوئے نیچے کے میدانوں تک زندگی پہنچاتی ہیں، دراصل قدرت کا وہ خاموش تحفہ ہیں جن پر پورا ایک ماحولیاتی نظام قائم ہوتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی سے نکلنے والا شفاف پانی جب کئی کلومیٹر…
قانون سازی نہیں، ریتی بجری کی چوری ہی رکوا دو!
ملیر کی زرعی تہذیب کی ”رگِ جاں“ اور ”شہہ رگ“ وہ مخزنِ عظیم ہے، جس کا نام ”ریتی بجری“ ہے۔ اس عظیم الشان زرعی تہذیب کے زوال کی اصل وجہ ملیر کی ندیوں سے وسیع پیمانے پر ریتی بجری کے اخراج اور چوری کا بھیانک عمل ہے، جو اربوں روپے کا کالا کاروبار ہے۔ فطری…
کوڑے داں (مختصر افسانہ)
علی داد گوٹھ، پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں ہوا کبھی پاکیزگی کی قسم کھاتی تھی۔ بارش کے بعد جب ندیاں بہتی تھیں، تو زمین کی خوشبو سانسوں میں سمٹ جاتی تھی، گویا کہیں ماں نے بچے کو گود میں لے رکھا ہو۔ یہ ندیاں موسمی تھیں چند مہینوں کے…
ایجوکیشن سٹی میں آغا خان ہاسپٹل کی زہریلی ہوائیں
کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے لہو سے ہماری قبروں پہ ’ترقی‘ کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے، چاہے وہ پچھلے پچھتر سال سے کراچی شہر کا پھیلتا کنکریٹ کا جنگل ہو، جس میں کراچی کے انڈیجینئس لوگوں کو اپنی ہی زمینوں، گھروں سے بےدخل کیا گیا، ان پچھتر سالوں میں قبضہ مافیا و…