اے فلاحی اداروں کے رضا کارو! بس تھوڑا سا ٹھہرو!
فلاحی اداروں کی خاموش ایمبولینس آتی ہیں۔ ان میں بندوقوں سے چھید کیے اداس لاشیں ، اپنے وجود سے ٹپکتا لہو لیے موجود ہوتی ہیں۔ گورکن لائین میں دشت کے صحرا میں نئی قبریں کھود لیتا ہے. ان لاشوں کے دفن ہونے سے پہلے دشت کے ریت کے ذرّے شور کرتے، چیختے، ماتم کرتے…