سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی ( آخری قسط)
سندھو اپنی بات جاری رکھتا ہے ”اگر میں یہ کہوں کہ اجرک اور سندھی ٹوپی سندھی ثقافت کی پہچان ہیں تو ہر گز غلط نہ ہوگا۔ اجرک مختلف رنگوں کی بلاک پرنٹنگ شال کا ایک ایسا امتزاج ہے جو سندھی ثقافت کا نمایاں جزو ہے۔ دراصل یہ ساڑھے چار ہزار سال پرانے بلاک پرنٹنگ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط65)
سندھو بتاتا ہے ”میرے ذریعہ تجارت کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے کنارے سرکش، لڑاکے اور قانون شکن قبائل آباد تھے اور تجارتی نقطہ نگاہ سے سفر کرنے والے قافلے خود کو کبھی محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ یہ قبائل اس قدر سرکش اور لڑاکے تھے کہ سکندر اعظم کے بہت…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط61)
”قدیم دور کا ’اروڑ‘ یا ’بکر‘ یا ’سکر‘ اور دور حاضر کا سکھر، سندھ یا وادی مہران کا تیسرا بڑا شہر میرے مغربی کنارے آباد ہے۔ سندھی زبان کے لفظ سکھر کا مطلب ہے ”اعلیٰ“۔ اس شہر کا معروف بھی ہے ”دریا ڈنو“ یعنی ”دریا کا تحفہ“ اگر میں ادھر سے نہ بہتا تو یہ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط59)
سُوریءَ تے سو وار، ڈیھاڑیو چنگ چڑھِیں جِم وِرچی چھڈئَیں، سِکَنڑ جی پچار پِرت نہ پَسیں پار، نِینھں جئائین نِگئو (شاہ عبدلطیف بھٹائیؒ) منظوم ترجمہ: عاشق سولی چڑھتے ہیں دن میں سو سو بار پریت کی ریت کو بھول نہ جانا، دیکھ کے نیزے، دار جا تو اب اس پار، پنپ رہی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط25)
اسکردو، جگلوٹ، داسو کی تھکا دینے والی مسافت طے کرنے میں تقریباً آٹھ (8) گھنٹے لگیں گے (اب جبکہ نئی سڑک زیر تعمیر ہے، یقیناً یہ فاصلہ کم وقت میں طے ہوگا) جبکہ گلگت اسلام آباد کی مسافت سولہ گھنٹے کی ہے البتہ ہوائی جہاز راولپنڈی سے یہی مسافت پچاس (50) منٹ…