جب سیاست نے پہلو بدلا: دائیں اور بائیں بازو کی مشہور زمانہ اصطلاحات کی کہانی
آپ نے اکثر سیاسی مباحث میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی اصطلاحات کا شد و مد سے ہونے والا استعمال ضرور سنا ہوگا۔۔ اور ان کا ذکر سن کر آپ کے ذہن میں ایک سیاسی نقشہ ابھرتا ہوگا: ایک طرف روایت پرستی، قوم پرستی اور مذہبی سیاست کی چھاؤں؛ دوسری طرف ترقی پسندی،…
’ہارڈ اسٹیٹ‘: آہنی ریاست کی جگہ ایک آدھ بار مکمل آئینی ریاست بن کر دیکھیں
ایک بات تو ماننا پڑے گی کہ ہماری موجودہ جرنیلی کلاس سابقین سے زیادہ پالشڈ ہے جبکہ سیاستدانوں کی حاضر کھیپ اپنے پرکھوں کے مقابلے میں یا تو کم پڑھی لکھی ہے یا پھر اس نے اپنا علم و فضل خفیہ رکھا ہوا ہے اور فوٹوکاپی سوچ پر گزارہ ہے۔ بیشتر پولٹیکل کلاس چونکہ…
عدلیہ، پارلیمان اور سوالات کے شرارتی بچے
گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور پکڑ دھکڑ پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے سماعت ہوئی۔ اس دوران ایک سوال اٹھا، جو شاید تاریخ میں محض ایک جملہ نہ رہے بلکہ ایک بڑے فکری…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…
جمہوریت کے رنگ ڈھنگ
آج ہم اپنے طور پر جمہوریت کے رنگ روپ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اساتذہ سے جمہوریت کے بارے میں ہم کچھ پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ ہمیں ٹال دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، فقیروں کا کیا کام جمہوریت اور آمریت سے؟ تم لوگ اللّٰہ اللّٰہ کیا کرو، اور…
ہمارے ڈنڈے والے استاد
اسلام آباد میں نوجوانوں سے سپہ سالار کے خطاب کی جھلکیاں پڑھتے ہوئے میری نسل کے ان لوگوں کو، جنہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گذشتہ صدی میں سرکاری اسکولوں میں حاصل کی ہے، انہیں اپنے ہائی اسکول کے استاد یاد آئے ہوں گے۔ اب بھی کبھی بچہ پوچھتا ہے کہ آپ کے اسکول…
بے شک جمہوریت بہترین انتقام ہے!
آپ لوگ دنیا میں پاکستان کا چہرہ لیگل رکھنے کے لیے ایک فلٹر ہیں، اس کے علاوہ کچھ نہیں! جس طرح وڈیو چیٹ میں فلٹر لگا کے بندہ کبھی بلی بن جاتا ہے، کبھی چیتا، شیر اور کبھی چشمہ ٹوپی پہنا گینگسٹر، آپ بس وہ فلٹر ہیں۔۔ امیر گھروں میں کچن کے پیچھے ایک ڈرٹی…
جمہوریت بھی عدم مساوات کا باعث بنتی ہے
تاریخ میں تہذیب کی ترقی کے ساتھ معاشرہ طبقاتی ہو گیا۔ حکمران طبقے کے پاس ریاست کی طاقت اور اس کے اداروں پر تسلط تھا جبکہ عام لوگ بے بس اور محرومی کا شکار تھے۔ تاریخ میں نچلے طبقے کے عوام مساوی درجہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ شورش، فسادات اور…