جوتے (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
مرکن نامی ایک پیانو کے سر ملانے والا، تازہ منڈے ہوئے زرد چہرے، ناک پر نسوار کا داغ اور کانوں میں روئی ٹھونسے، ہوٹل کے کمرے سے نکل کر راہداری میں آیا اور کپکپاتی آواز میں چلایا: ”خادم! سیمیون۔۔۔!“ اس کے خوف زدہ چہرے کو دیکھ کر شاید آپ سمجھتے کہ اس پر چھت…
ہوشیار بُڑھیا (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
کام شروع کرنے سے پہلے اس نے اپنے تینوں ساتھیوں کو ڈنر پر بلایا۔ الزامور خوب اچھی طرح جانتا تھا کہ ساتھیوں کو خوش کیے بغیر ان سے کام لینا کس قدر مشکل ہے۔ ”دوستو!“ اس نے اپنا جام اٹھایا، ”ہم لوگوں نے اپنے پلان کا ہر زاویے سے جائزہ لیا ہے، کہیں جھول نہیں…
چھوٹی اداکارہ بڑی کہانی (برطانوی ادب سے منتخب افسانہ)
کلے پول میں پندرہ ہزار لوگ رہتے تھے لیکن ان میں صرف ایک اداکارہ تھی، جس کی زنانہ ٹوپیوں کی دکان تھی۔ میرا نام سپارک ہے، میری گھڑیوں اور جیولری کی دکان مِس پوریٹس کی دکان کے سامنے پندرہ سال سے ہے۔ اس تمام عرصے میں وہ مجھ سے کبھی نہیں بولی اور میرا نہیں…
کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
جاگیردار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ بارہ تیرہ سال کی بڑی معصوم شکل چھوکری تھی۔ دروازہ کھلتے ہی پہلے تو مجھے دیکھ کراس نے اپنا ہاتھ جھٹ سے پیچھے کر لیا اور پھر جھجکتے ہوئے اسی ہاتھ کو آگے بڑھا کر بولی، ’’یہ چٹھی۔۔۔‘‘ میں اس کے ہاتھ سے کاغذ کا پرزہ لے کر پڑھنے لگا۔ ’جناب عالی، میں آپ…
فاختائیں (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
یہاں خریت ہے۔ آپ کی خریت نیک مطلوب۔۔ اپنے پرانے دوست فضل دین کو چٹھی لکھتے ہوئے لوبھ سنگھ کو یاد آیا ہے کہ وہ ان دنوں بھی اسے ’خریت‘ لکھنے پر ٹوکا کرتا تھا۔ ”اردو کے ماسٹر ہو لوبھے، یہ بھی نہیں جانتے خریت خیر سے ہوتا ہے۔“ ’’بڑے علم دین مت بنو، فضل…
ایک چپ سو دکھ (منتخب افسانہ)
ایک وقت آتا ہے جب کچھ بھی ٹھیک ٹھیک یاد نہیں رہتا، اگرچہ کچھ نہ کچھ ہمیشہ یاد رہتا ہے اور وہ وقت مجھے ہمیشہ یاد رہا، جب اس نے مجھ سے کلام کیا تھا۔ یہ ایک تپتے دن کی تپش بھری شام تھی اور میں اس قہوہ خانے میں تھا، جہاں لفظ ساز اکٹھے…
ماں پڑھتی ہے (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
کئی مہنوں بعد گاؤں آیا ہوں۔ماں یہاں اکیلی رہتی ہے۔ آج گھر کا دروازہ کھلا ہے، ورنہ تو ماں صبح سویرے دروازہ بند کر کے باہر کا کام نمٹانے چلی جاتی ہیں۔ صبح کا سارا وقت حویلی میں گزرتا ہے۔جانوروں کو چارا ڈالتے، گائے کا دودھ دھوہتے، گوبر پھینکتے۔ اِس سمے بھی…