حضور بیٹھیں گے کہ لیٹیں گے؟
کون کہتا ہے حالات پہلے سے بدتر ہیں۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ ہرگز ہرگز اس ملک کے خیرخواہ نہیں۔ جب انہیں معلوم ہی نہیں کہ پہلے کیسے حالات تھے تو پھر وہ کیونکر ایک باخبر اور متوازن رائے قائم کر سکتے ہیں خود کو باشعور سمجھنے والے یہ مٹھی بھر لوگ دراصل…
بگڑتی معیشت، پاکستان جنوبی ایشیا میں افراطِ زر کی سب سے بلند شرح والا ملک!
گزشتہ روز پاکستان کے دفتر شماریات کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس سال مئی میں، 2022ع کے مئی کے مقابلے میں افراطِ زر کی شرح 37.97 فیصد رہی۔ اس عرصے کے دوران پورے جنوبی ایشیا میں کسی بھی دوسرے ملک میں افراطِ زر کی شرح اتنی زیادہ نہیں تھی قبل ازیں گزشتہ…
جب تک چل رہی ہے، چل رہی ہے
ولی عہد عباس خان عباسی نے نواب آف بہاولپور صادق خان پنجم کی زندگی کے آخری دنوں میں پوچھا کہ بابا سائیں کوئی نصیحت جو آگے چل کے میرے کام آئے؟ نواب ضادق خان پنجم نے فرمایا، ”اس شخص سے ہمیشہ ڈرتے رہنا، جو تمہارے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے ملے۔“ میں نے ایک اور…
مُنے اور اُن کے ابّا
یادش بخیر! منو بھائی نے ادبِ لطیف میں اس اصطلاح کو تبدیل کرنے کا معرکہ سر کیا۔ منو بھائی سے پہلے یہ اصطلاح بھاگوان خواتین استعمال کیا کرتی تھیں۔ میرے ایک کلاس میٹ اور اُن کے بھائیوں نے پاکستان میں جدید ریستوران کی چَین بنائی۔ میرے کلاس فیلو چند سال یہ…
ہم طوطا فال نکالنے والی ریاست بن چکے ہیں؟
جب حالات بے قابو ہو جائیں اور بظاہر کوئی بھی انہیں سدھارنے کے قابل نہ رہے تو خود کو تسلی دینے اور نااہلی چھپانے کے لیے یا تو ’شان دار ماضی‘ کی داستانیں کام آتی ہیں یا پھر اردگرد کی ہم سے بھی گئی گذری مثالیں مثلاً سردار موچی سے لے کے محلے کی مسجد…
نہ انجن کی خوبی، نہ کمالِ ڈرائیور
کیا اچھا منظر ہے۔ آئین کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر خود آئین مارے خوشی کے جھومنے کے خوف سے کپکپا رہا ہے۔ ریاست جن چار ستونوں پر کھڑی ہے، وہ ستون آئین کا بوجھ نہیں سہار پا رہے۔ ہر ستون سے فرانسیسی شہنشاہ لوئی چہاردہم کا بھوت چمٹ چکا ہے۔ ہر ستون سے آواز…
آپ سے نہیں ہوتا تو ہم عوام پر چھوڑ دیں
پاکستانی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں سے سیاسی معاملات میں متنازع، ڈرامائی، افسانوی، ضرورت، وابستگی اور ترجیحات پہ مبنی فیصلے آتے رہے عدلیہ میں کئی ایسے ججز آئے جنہوں نے آئین کے برخلاف فیصلے دیے، کچھ ججز کے فیصلوں کو وسیع تر ذاتی مفاد لے ڈوبا،…
ریورس انجینیئرنگ، وقت کا پہیہ واپس نہیں مُڑتا
سیاست کا کھیل ایک بار پھر بند گلی میں ہے۔ اسی بند گلی میں ہونے والی کشمکش میں ایک کے بعد ایک ادارہ تختہ مشق بن رہا ہے۔ کیا اسمبلیاں، کیا عدالتیں، کیا آئی ایم ایف اور کیا بیرونی تعلقات۔۔ ایک کے بعد ایک نیا محاذ کھل رہا ہے۔ اتنے کثیر محاذوں پر کشمکش کا…