پاکستان پر اشرافیہ کا تسلط اور آئی ایم ایف سربراہ کی پاکستانی عوام کے ساتھ ’ہمدردی‘!
اگرچہ پاکستانی معیشت پر اشرافیہ کے تسلط کی بحث نئی نہیں ہے، مگر اسے ایک نئی جہت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سربراہ کے اس بیان سے ملی کہ پاکستان اپنے ہاں غریب شہریوں کا تحفظ کرے اور امیروں پر نئے ٹیکس لگائے اقتصادی ماہرین اور سماجی تجزیہ کاروں میں یہ خیال…
زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم، پاکستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے، فنانشل ٹائمز کی رپورٹ
موقر برطانوی جریدے ’فنانشنل ٹائمز‘ کا کہنا ہے کہ معاشی حوالے سے پاکستان انتہائی نازک موڑ سے گزر رہا ہے، اس صورتحال میں پاکستان کی معیشت ڈوبنے کا خطرہ ہے برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ملکی معیشت پر خطرات منڈلانے لگے ہیں، معیشت کے بحران کو ختم…
پاکستان ميں فروغ پاتا ڈجيٹل سيکٹر اور روزگار کے تبدیل ہوتے ذرائع
کورونا کی عالمی وبا نے جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں پر اپنے اثرات مرتب کیے، وہیں اس کی وجہ سے دنيا بھر ميں آن لائن خريد و فروخت، کاروبار اور رابطہ کاری کی ميں بھی خاصا اضافہ ديکھا گيا۔ اسی کے ساتھ ڈجيٹل ميدان ميں صلاحيتوں کی مانگ ميں بھی اضافہ ہو رہا ہے اسی…
ڈیوٹیز اور لیویز کی مد میں ٹیلی کام صارفین سے اضافی 100 ارب وصولی کا انکشاف!
اپریل 2022ع میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ٹیکس کی شرح میں اضافے کے نتیجے میں 30 جون 2022ع کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروس صارفین کی جیبوں سے ڈیوٹیز اور لیویز کی مد میں ایک سو ارب یعنی ایک کھرب روپے سے…
حکومت اگلے تین ماہ میں ٹریژری بلز کے ذریعے اڑتالیس کھرب روپے کا ریکارڈ قرض لے گی!
حکومت نے 2023ع کے ابتدائی تین مہینوں میں مارکیٹ ٹریژری بلز کے ذریعے چالیس کھرب اسی ارب روپے کا ریکارڈ قرضہ لینے کا منصوبہ بنایا ہے حکومت اس کی وجہ دسمبر کے دوران قومی خزانے کو لگنے والے دھچکے اور اس پر قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے پڑنے والے بڑے بوجھ بتا…
ڈیفالٹ کا خطرہ، کویت کو آئل بل ادائیگی کے لیے پیسے نہیں!
نون لیگ کی سربراہی میں پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ڈیزل درآمدات کی مد میں کویت کو ادائیگی کے لیے سترہ ارب روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کی درخواست منظور نہیں کی، جبکہ گیس سیکٹر کے چودہ سو ارب روپے مالیت کے گردشی قرضوں کے مسئلے کے…
پاکستانی سافٹ ویئر برآمدات کے بڑھنے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟
پاکستان کی سیاسی و داخلی مسائل میں الجھی ہوئی حکومتوں کی ’ڈنگ ٹپاؤ‘ پالیسیوں، طویل المدتی حکمت عملی کی کمی، پیداواری شعبے کے لیے ناموافق ماحول اور سروس سیکٹر کے بے جا پھیلاؤ وہ عوامل ہیں، جن کی وجہ سے ملکی برآمدات میں اتنا اضافہ نہیں ہو سکا جتنا اس ملک…