ماں بولی (حصہ اول)
یہ یاد نہیں کہ جب پہلی بار اسکول بھیجا گیا تو ماحول کیسا تھا۔ دھندلی یادیں بس اتنا بتاتی ہیں کہ ایک سلیٹ، چاک، ایک کاپی، پینسل اور سندھی کی پہلی کتاب ساتھ تھی۔ کیا پڑھایا جاتا تھا، یہ یاد نہیں، مگر سندھی الف ب بڑی ترنم کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی۔ ایک بلوچ…
یہاں غربت کے کفن پر ترقی کا اشتہار چَھپتا ہے۔۔
بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے، جس میں ایک اور پھر دوسرے ہاتھ کا انگوٹھا، جو اس وقت ابھی محض ٹھینگا ہی ہوا کرتا تھا، کسی کو دکھا کر ترنم سے کہتے تھے، ”اسے کھا لو، اسے رکھ لو۔۔“ آج یہی کھیل ہمارے ساتھ حکمراں اشرافیہ، ایلیٹ کلاس کھیل رہی ہے جو اعداد و…
بڑھتی ہوئی عدم مساوات کی تصویر بنا ایشیا امیروں کا نیا کھیل کا میدان بن گیا
دنیا کے نقشے پر ایشیا آج صرف آبادی یا معیشت کا استعارہ نہیں بلکہ تضاد کی ایک زندہ تصویر ہے، جہاں فلک بوس عمارتوں کے سائے میں جھونپڑیاں سکڑتی جا رہی ہیں اور ڈیجیٹل اسکرینوں کی چمک میں لاکھوں چہرے اندھیرے میں گم ہو رہے ہیں۔ یہ وہ خطہ ہے جو بظاہر ترقی کے…
ایجوکیشن سٹی: تعلیم کے نام پر زمین ہتھیانے کا نیا سرمایہ دارانہ کھیل
کراچی کے ضلع ملیر میں ”ایجوکیشن سٹی“ کے نام پر ایک نیا کمرشل تعلیمی پروجیکٹ زیرِ تکمیل ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک مثبت اقدام دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمین کے حصول کا ایک اور باب بنتا جا رہا ہے۔ یہ…
ایل فورٹی سیون: تورے بارو اور کراچی یونیورسٹی میں پڑھنے والے گڈاپ کے طلبہ
گزشتہ روز ایک ہسپانوی زبان کی فلم دیکھی، جس کا نام تھا ایل فورٹی سیون (El47)۔ جو محض ایک فلم نہیں تھی، بلکہ ایک آئینہ تھی، جس میں مجھے گڈاپ کا چہرہ نظر آیا۔ اس فلم میں، میں نے ایک پرانے ہسپانوی قصبے تورے بارو کی محرومیوں میں اپنا شہر دیکھا، اپنے شہر کے…