سرد خزاں (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
اس سال جون میں وہ ہماری جاگیر پر رہنے آیا۔ ہم نے اسے ہمیشہ خاندان کا ایک فرد سمجھا تھا، اس کے مرحوم والد میرے ابّا کے قریبی دوست اور پڑوسی تھے۔ پندرہ جون کو فرڈینینڈ کو سراجیوو میں قتل کر دیا گیا۔ سولہ تاریخ کی صبح ڈاک خانے سے اخبارات آ گئے۔ میرے ابّا…
کفارہ (منتخب افسانہ)
گاڑی نمبر ۱ پلیٹ فارم پر رکی اور تیسرے درجے کے ایک بھرے ہوئے ڈبے سے ایک گھبرائی ہوئی آواز نے پکارا، ’’کوئی قلی۔ کوئی قلی!‘‘ تب لوگوں کو تو چڑھنے اترنے کی پڑی تھی۔ اترنے والوں کی نسبت چڑھنے والے اتاولے تھے اور چڑھنے والوں کی نسبت بےصبر۔ پھر قلی کس طرح اس…
ایک ٹیلی وژن کی موت (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
پرماتما کی بے پناہ مہربانی سے آج میں ساڑھے تین منزلہ کوٹھی کا مالک ہوں۔ کبھی ایک معمولی ملازم کی حیثیت سے دبئی گیا تھا، صنعتکار اور کروڑپتی بن کر واپس آیا۔ میری کئی فیکٹریاں ہیں، گھر میں خوبصورت اور نیک بیوی ہے، لائق بچے ہیں، نوکر چاکر ہیں، دروازے پر دو…
پھسلتے ہوئے چہرے
اگر یہ بات اصولی طور پر تسلیم کر لی جائے کہ محبت کرنا، محبت کیے جانے سے بہتر ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ کامیاب ترین قسم کی محبت وہ ہے جس کی جوابی کارروائی کی کوئی توقع ہو نہ امید، یعنی یک طرفہ محبت۔۔ اور پھر بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ…
اداسی کا مسکراتا چہرہ: لوگوں کو ہنساتے کامیڈینز کے اندر کی درد بھری دنیا
امر جلیل کے مشہور سندھی ڈراما ’مٹیءَ جا مانڑھو‘ (مٹی کے آدمی) کا ایک مکالمہ ہے، ”میں وہ مسخرہ ہوں، جو دنیا کو ہنسا کر، پردے کے پیچھے جا کر رو پڑتا ہے۔۔“ یہ مکالمہ کامیڈینز کے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپے دکھ کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ کامیڈینز کی زندگی ایک…
ڈاچی (افسانہ)
پی سکندر کے مسلمان جاٹ باقر کو اپنے مال کی طرف حریصانہ نگاہوں سے تاکتے دیکھ کر او کانہہ کے گھنے درخت سے پیٹھ لگائے، نیم غنودگی کی سی حالت میں بیٹھا چودھری نندو اپنی اونچی گھر گھراتی آواز میں للکار اٹھا۔۔۔ ’’رے رے اِٹھے کے کرے ہے؟‘‘ (ارے یہاں کیا کر رہا…