مشینوں کے غلام لوگ زندگی کے راستے سے بھٹکنے لگے
کبھی وہ بھی دن تھے جب گاڑی کی کھڑکیاں کھول کر تازہ ہوا کو گلے لگاتے، راستوں کے حسین مناظر دیکھتے، اور سفر کو زندگی کا ایک خوبصورت حصہ سمجھتے تھے۔ گاڑی میں گیت گانے اور قہقہے لگانے کا ایک الگ ہی مزا تھا۔ اگر راستہ بھول بھی جاتے تو کوئی پریشانی نہیں ہوتی…
ابال (منتخب اردو افسانہ)
جب دودھ ابل ابل کر کوئلوں پر گرنے لگا اور شاں۔۔۔ شاں کی آواز کے ساتھ ایک تیز سی بُو اٹھی تو چندن نے ہڑبڑا کر پتیلی کی طرف ہاتھ بڑھایا، جو کوئلوں کی تپش سے سرخ ہو رہی تھی۔ بےبسی کے انداز میں چندن نے جلد جلد ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ کوئی کپڑا پاس نہ…