کونپل (افسانہ)
سگیاں کے پنڈت جے رام کی لڑکی سینکری کے دل میں بچپن ہی سے جس چیز کی زبردست خواہش پیدا ہو گئی تھی، وہ سونے کے زیور تھے اور ان میں بھی طلائی کنگنوں پر تو جیسے اس کا دم نکلتا تھا۔ سگیاں کی بےچاری غریب دیہاتنیں تو چاندی کی بالیوں، چوڑیوں، کڑوں، کنٹھوں،…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
پھانسی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آخر ایک صبح مجھے پھانسی دے دی گئی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بہار کا موسم تھا کہ موسمِ سرما۔۔۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مجھے پھانسی دی گئی۔ میرا گناہ ایک غیر معمولی مگرمچھ کے ساتھ دوستی کرنا تھا۔۔ افریقا کا ایک مگرمچھ، جو آنسو نہیں بہاتا تھا! مجھ پر متعیّن فوجی…
سفاک ماں (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
میں پندرہ سال بعد موسم خزاں میں شکار کھیلنے کے لیے ’ویر لون‘ (فرانس کا ایک قصبہ) واپس آیا۔ اپنے دوست سرول کے ہاں قیام کیا۔ اس نے اپنی گاؤں والی حویلی، جسے پروشیائی تباہ کر گئے تھے، دوبارہ تعمیر کرلی تھی۔ میں اس علاقے کا دلدادہ تھا۔دنیا میں کچھ جگہیں ایسی…
دو دوست (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
پیرس محاصرے میں تھا۔قحط زدہ تھا۔ محسوس ہوتا تھا جیسے آخری سانسیں لے رہا ہے۔ چھتوں پر سے چرند پرند غائب ہو چکے تھے۔۔ اور شہر کے گٹر خشک ہو چکے تھے۔ لوگوں کو جو ملتا، کھا لیتے۔ جنوری کی ایک چمکیلی صبح جناب موریسوٹ، جو پیشے کے لحاظ سے گھڑی ساز تھا، لیکن…
جنگ کی چھاؤں تلے (نائجیرین ادب سے منتخب افسانہ)
اس دن تین فوجی گاؤں آئے۔۔ ان کو دیکھ کر بکریاں اور مرغیاں تتر بتر ہو گئیں۔۔ وہ بار گئے اور کھجور کی شراب کا آرڈر دیا۔۔ وہ اڑتی مکھیوں کے درمیان شراب پیتے رہے۔۔۔ ’اموو‘ کھڑکی میں بیٹھا باپ کے جانے کا منتظر تھا اور انہیں دیکھتا جا رہا تھا۔۔ باپ بیٹے نے…
چوکیدار کی بیوی
کَل دو افراد لُو لگنے کے باعث دم توڑ گئے تھے۔ یہ موسمِ گرما کا شدید ترین اور بلند ترین سطح کا ریکارڈ درجۂ حرارت تھا۔ انیتا سورج کی بے حسی یاد کر کے جھلا گئی تھی، کہ کل چڑیا گھر کے پرند خانے میں پرندے گرمی کی شدت سے کیسے ساکت اور خاموش تھے۔…
یہ وقت محبت کا نہیں (جدید یونانی ادب سے منتخب افسانہ)
محبت کی اس کہانی نے تب کھِلنا چاہا، جب قرضے کا بحران ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ یہ ایک مشکل وقت تھا۔ تناﺅ والے اِس دور میں لٹیرے سرمایہ داروں کے محنت کشوں پر حملے جاری تھے اور یہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ سرمایہ فراہم کرنے والے عالمی سرمایہ داروں نے بھی کُھل کر…