ماں بولی (حصہ چہارم)
سقوطِ ڈھاکا کے بعد یوں محسوس ہوا تھا کہ شاید ریاست اپنی غلطیوں سے سیکھے گی، قومیتوں اور زبانوں کو ان کا وہ حق دے گی جس سے وفاق مضبوط ہوتا ہے، مگر جوں جوں ہم تاریخ کے ابواب پلٹتے ہیں، اندازہ ہوتا ہے کہ واقعات بدل گئے، نقشہ بدل گیا، لیکن ریاستی ذہنیت میں…
ماں بولی (حصہ دوم)
میں مادری زبانوں کی حیثیت اور اہمیت پر لکھ رہا ہوں۔ بات اپنی ماں بولی کے درد کی ہے، مگر کسی بھی موضوع پر لکھتے ہوئے ضروری ہے کہ اسے مکمل، تحقیقی اور وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔ زبان صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ اپنے پیچھے کوئی پورا معاشرتی ڈھانچہ،…
ماں بولی (حصہ اول)
یہ یاد نہیں کہ جب پہلی بار اسکول بھیجا گیا تو ماحول کیسا تھا۔ دھندلی یادیں بس اتنا بتاتی ہیں کہ ایک سلیٹ، چاک، ایک کاپی، پینسل اور سندھی کی پہلی کتاب ساتھ تھی۔ کیا پڑھایا جاتا تھا، یہ یاد نہیں، مگر سندھی الف ب بڑی ترنم کے ساتھ پڑھائی جاتی تھی۔ ایک بلوچ…
کیا پاکستان میں نئی زبانیں دریافت کی منتظر ہیں؟
لسانی اعتبار سے پاکستان ایک زرخیز ملک ہے، جہاں ستتر زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال ایک محقق ظفر سید نے شمالی علاقہ جات میں بولی جانے والی ’بروسکت‘ زبان کا سراغ لگایا، جو پہلے ریکارڈ کا حصہ نہ تھی۔ کسی بھی خطے کے ثقافتی تنوع کا اندازہ…
معدومی کے خطرے سے دوچار زبانوں کا تحفظ
ہم میں سے کئی لوگ ایک سے زیادہ زبانیں بولتے ہیں یا جانتے ہیں لیکن پھر بھی ہم اپنی زندگیوں میں ان زبانوں کی اہمیت اور ان کے کردار سے واقف نہیں ہوتے ہم یہ تصور کرلیتے ہیں کہ زبان بس رابطے کا ایک ذریعہ ہے اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری شناخت،…