جھمپیر، جہاں دہائیوں سے جنگلی حیات کی نسل کشی جاری ہے
جھمپیر (Jhimpir)کے علاقے میں ایک طرف جہاں آنے والے مہمان پرندوں کا شکار عام ہے، وہیں ونڈ ٹربائن کے منصوبوں نے بھی مہمان پرندوں کی آمد کو متاثر کیا ہے۔ جھمپیر میں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، اس لیے لوگ کینجھر کا میٹھا پانی پیتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہاں کے لوگ…
ملیر: زرعی زمینیں اور ثقافتی ورثہ خطرے میں
نام نہاد ”ترقی“ اپنا خراج بہت جلد درختوں اور جنگلی حیات کی سینکڑوں اقسام کو نگل کر وصول کرے گی۔ ان میں سے بعض نایاب اور مقامی اقسام ایسی ہیں جو صرف ملیر کے علاقے میں پائی جاتی ہیں اور جنہیں بالغ ہونے میں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مزید برآں، مون سون کے موسم…
کھیرتھر نیشنل پارک کے تحفظ سے متعلق درخواست پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت
سندھ ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز صوبائی متعلقہ حکام کو کھیرتھر نیشنل پارک کے تحفظ سے متعلق دائر درخواست پر رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی آئینی بینچ نے وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری کو…
قحطِ آب میں سسکتے پرندے: سندھ میں مہمان آبی پرندوں کی اُجڑی بستیاں
کہتے ہیں جب ہوائیں بدلتی ہیں تو پرندے بھی راستہ بدل لیتے ہیں، مگر سندھ کی زمین پر جو منظر اب ابھرتا جا رہا ہے، وہ صرف ہواؤں کا قصہ نہیں، پانی کے ناپید ہوتے خوابوں کا نوحہ بھی ہے۔ 2023 تک سندھ کی جھیلیں، دلدلی علاقے اور کھلے پانی کے ذخائر دنیا بھر کے…
ممنوعہ علاقہ: کِھیْرتَھر نیشنل پارک
”زمین کوئی سرمایہ نہیں جس پر ہمارا مالکانہ حق ہو، بلکہ یہ وہ مقام ہے جس کے لیے ہمیں اس کی عطا کردہ زندگی کے تحفے کے بدلے اخلاقی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ یہاں وہ سوال ہے، جس کا ہمیں آخرکار سامنا کرنا ہوگا: کیا زمین محض اشیاء کا ذریعہ ہے، یا یہ ہمارے سب…
ارتقائی عدم مطابقت: جب ماحول، حیاتیاتی انواع کی رفتار سے زیادہ تیزی سے بدلتا ہے!
ارتقاء ایک ایسا عمل ہے، جو لاکھوں سالوں پر محیط ہوتا ہے، جس کے ذریعے حیاتیاتی انواع وقت کے ساتھ ساتھ اپنے ماحول کے مطابق ڈھلتی ہیں۔ ارتقائی عدم مطابقت ایک ایسا نظریہ ہے، جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ جب ماحول کی تبدیلی کی رفتار انواع کے ارتقائی ردعمل سے زیادہ…
معدومیت کے خطرے کا شکار بھیڑیے یورپ کے لیے خطرہ کیسے بنے؟
یورپ کے مختلف علاقوں میں بھیڑیوں کی بڑی تعداد کی واپسی نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈر نے کہا ہے کہ یورپ کے علاقوں میں بھیڑیوں کی واپسی پالتو جانور اور شاید انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہو…
نباتاتی باغات موسمیاتی تبدیلیوں کے درمیان تتلیوں کے لیے پناہ گاہ ہیں۔
یونیورسٹی آف ایریزونا کے محققین کی ایک نئی تحقیق کے مطابق، کنکریٹ کے جنگل میں زندگی کھردری ہو سکتی ہے، خاص طور پر تتلیوں کے لیے، لیکن شہر کی سبز جگہوں میں حیرت انگیز تنوع ہو سکتا ہے اور یہ تتلیوں کے تحفظ میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو سکتا ہے ایریزونا…