دوسری گلی کا کُتا (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
دنیا کا نقشہ اپنے سامنے میز پر پھیلائے، انگلیوں میں پنسل تھامے، وہ بہت دیر سے کچھ ڈھونڈ رہا تھا یا سوچ رہا تھا، کبھی کبھی پنسل نقشے پر بنی لکیروں کے اوپر ہی اوپر راستہ ڈھونڈتے بہت دور تک نکل جاتی اور پھر اسے یوں لگتا، جیسے پنسل کے ساتھ اس کا ذہن بھی…
پھانسی (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
آخر ایک صبح مجھے پھانسی دے دی گئی۔ میں نہیں جانتا کہ وہ بہار کا موسم تھا کہ موسمِ سرما۔۔۔ بہرحال یہ طے ہے کہ مجھے پھانسی دی گئی۔ میرا گناہ ایک غیر معمولی مگرمچھ کے ساتھ دوستی کرنا تھا۔۔ افریقا کا ایک مگرمچھ، جو آنسو نہیں بہاتا تھا! مجھ پر متعیّن فوجی…
سماج میں واپسی (ارجنٹینی ادب سے منتخب افسانہ)
ہم ہفتے کی شام کے دھندلکے میں ’باریلوچی‘ میں اپنا ہنی مون منا کر بیونس آئرس واپس پہنچے تھے اور مشتاق تھے کہ اپنے نِگھے ایک بیڈ روم والے اپارٹمنٹ میں اپنی پہلی رات گزاریں۔ جیسے ہی ہم نے بیڈ روم کا دروازہ کھولا، ہم نے وہاں ایک پنجرہ پایا۔ دیکھنے میں تو یہ…
دوغلی (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
(یہ کہانی اس وقت کی ہے، جب انیسویں صدی بیسویں صدی سے گلے مل رہی تھی۔ امریکہ روس کا ایک علاقہ، جو رقبے میں مغربی یورپ سے بڑا تھا، صرف سات ملین ڈالر میں خرید چکا تھا۔ برفیلے الاسکا میں سونا نیا نیا دریافت ہوا تھا۔ راتوں رات دولتمند ہونے کے لالچ میں امریکہ…
انجان نگر میں کھلی ایک کھڑکی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ وہاں رہنے کے لئے کیوں گیا تھا؟ اسے خود بھی اس کی وجہ معلوم نہ تھی۔۔ لیکن شاید اسے معلوم تھا۔۔۔ وہ وہاں اس لئے گیا تھا کہ وہاں کا مخصوص منظر اس کی پریشانیاں دور کر سکے؛ کھلی جگہیں، کھیت، خاموشی، ماضی کے گھروندے۔۔ جب گھر، گھر ہُوا کرتے تھے؛ جن کے اندر…
منڈیل بام گیٹ (فلسطینی افسانہ)
”اس سے پوچھو، یہاں سے جانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے یا نہیں؟ بس مجھے یہ بتاؤ مسٹر!“ اسرائیلی کسٹم کا سپاہی چیخا اس کی ڈیوٹی مینڈل بام گیٹ پر تھی۔ وہ بڑی رعونت سے گیٹ کے سامنے ہاتھ باندھے چوکس کھڑا تھا ”جناب! یہ ہماری والدہ کا فیصلہ ہے، وہ یہاں ہمارے ساتھ…
چڑیل (سرائیکی افسانہ)
ایک مرتبہ دادی اپنے پوتے پوتیوں کو چڑیل والا قصہ سنا رہی تھی ۔ بچوں نے دادی سے پوچھا کہ چڑیل کی شکل کیسی ہوتی ہے؟ دادی نے ان کو بتایا کہ چڑیل کے بال اس طرح کے ہوتے ہیں اور دانت اس طرح۔۔ لیکن بچوں کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ آخر تنگ آ…
گونگے سنّاٹے (افسانہ)
یہ ایک سچّی کہانی ہے مگر میری گزارش ہے کہ ان کرداروں کو آپ ڈھونڈنے نہیں نکلنا کیونکہ اب وہ وہاں پر نہیں رہتے ہیں۔ نہ جانے ٹرانسفر ہو کر کہاں چلے گئے۔ منوہر کھرے کام تو کسی اور سنٹرل دفتر میں کرتا تھا، مگر عبوری طور پر رہتا تھا کسی اور محکمے کے گیسٹ…