اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ سیاسی نہیں نفسیاتی ہے۔
آٹھ فروری وہ لاشہ ہے جو بپھرے سیاسی سمندر کے اوپر عرصے تک تیرتا رہے گا۔ یہ قومی پشت پر بندھا وہ کنستر ہے جو تادیر بجے گا۔ آپ بھلے خود کو کتنا ہی مطمئن دکھاتے رہیں مگر دنیا کے لبوں پر پھیلی خفتہ مسکراہٹ تو چھیننے سے رہے۔ وہ جو مثال ہے کہ پیش…
سی این این کی غزہ کے حوالے سے کوریج صحافتی بددیانتی پر مبنی ہے۔ سی این این سے وابستہ صحافی
امریکی نیوز چینل سی این این سے وابستہ صحافیوں نے غزہ جنگ کے تناظر میں حقائق اور فلسطینی نقطہ نظر کو سنسر کرنے اور اسرائیلی پروپیگنڈے کو بڑھاوا دینے پر مبنی کوریج پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ امریکہ سمیت کئی دوسرے ممالک میں سی این این کے…
جو ہونا چاہیے، وہ کسی کا باپ نہیں کروا سکتا!
دو وزرائے اعظم کی چوری شدہ گفتگو کی ڈارک ویب پر فروخت اور اعظم سواتی کی فیملی وڈیو ظاہر ہونے سے کم از کم ایک معمہ تو حل ہوا، یعنی اس ملک اور ان ممالک میں کوئی فرق نہیں، جہاں ہر حساس آئینی و سرکاری عہدیدار اور سیاسی و ذاتی مخالف کا فون، دیوار، دیوار…
”احمقانہ پریس کانفرنس میں سچ کے نام پر جھوٹ اور آدھے سچ بولے گئے“ عمران خان
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پریس کانفرنس کو ’احمقانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے ’سچ کے نام پر کی جانے والی اس پریس کانفرنس میں جھوٹ اور آدھے سچ بولے گئے، جو سیاق و…
ڈیڈ لاک ختم کرنے کیلئے 3 آپشنز عمران خان نے نہیں فوج نے دیے، شیریں مزاری
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے فوج کو نہیں بلایا اور 3 آپشنز وزیر اعظم عمران خان نے نہیں بلکہ فوج نے دیے تھے۔…
اسٹیبلیشمنٹ، اپوزیشن اور سردار کے لڈو
موجودہ حکومت کے تین سال مکمل ہوچکے اور یہ اپنے چوتھے سال میں ہے۔ گویا اس سال میں ہے، جب وزیر اعظم کو یہ باور کرانا لازم سمجھ لیا جاتا ہے کہ پانچ سالوں کی کوئی گارنٹی نہیں ایک زمانے میں تو پوری اسمبلی کو باور کرایا جاتا تھا کہ پانچ برس کی مدت بس…
طاقتور الیون بمقابلہ بااثر الیون
زمانہ چال چل گیا اور چال بھی اُن کے ساتھ جو ہر چال کو ڈھال فراہم کرتے ہیں۔ چال بھی ایسی غضب کی کہ نہ اُگلی جائے نہ ہی نِگلی۔ چال بنانے والے کچھ ایسی حالت میں ہیں کہ بقول امیر خسرو۔۔۔ موہے پریت کی ریت نہ بھائی سکھی میں تو بن کے دلہن پچھتائی…