پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…
کہانی کار کی کہانی، کہانی کی زبانی (افسانہ)
میں کہانی ہوں۔ میں نے کتنی ہی زندگیاں تراشی ہیں، کتنے ہی خواب بُنے ہیں، کتنی ہی تقدیریں سنواری ہیں۔ میری سطروں میں محبت کے چراغ جلے، غموں کے سائے دراز ہوئے، اور بغاوت کی صدائیں گونجیں۔ میں نے ظالموں کو گرایا، مظلوموں کو اٹھایا، وقت کو پلٹا، زمین کو آسمان…
یہ مرد (افسانہ)
کسی قسم کے احساس کے بغیر گوبند نے چپ چاپ لکشمی کی چارپائی کے اردگرد پردے لگا دئیے، پردے۔۔۔ جو لکڑی کے فریم میں سفید کپڑا لگا کر بنائے گئے تھے اور حسبِ خواہش کھولے یا بند کیے جا سکتے تھے۔ تب مس سلطانہ اور بکیٹی تیز تیز چلتی ہوئی آئیں اور ان کے بعد…