یک طرفہ شادی (چینی ادب سے منتخب افسانہ)
قریب الختم خزاں کی ایک دوپہر سے ذرا پہلے، آسمان پر دھواں دھواں بادلوں کی اڑتی ٹکڑیاں دھوپ کے راستے سے ہٹیں تو گلیا،ں جنہیں ہوا صاف کر چکی تھی، چمکنے لگیں۔ عورتیں اور بچے اپنے اپنے دروازوں کے باہر کھڑے، خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہوا اپنے ساتھ ترم کی صدا لے…
قبرستان کا رشتہ (فرینچ ادب سے منتخب افسانہ)
پانچوں دوست اپنی دعوت کے اختتام پر تھے۔ وہ سب اس خبر کے ادھیڑ عمر رؤسا تھے۔ ان میں سے دو کنوارے اور تین شادی شدہ تھے۔ وہ اپنی جوانی کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے مہینے میں ایک دفعہ یکجا ہوا کرتے تھے، پہلے طعام کا انتظام ہوتا تھا اور اس کے بعد…
فرے منریک: ایک پرتگیز پادری کی سفرِ سندھ کی کتھا (دوسرا حصہ)
یہ 21 اگست 1641ء بدھ کے دن کے ابتدائی پہر ہیں۔ بارش کا موسم اس برس تھوڑی بارشوں کے ساتھ آیا اور اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ رات کے وجود میں ہلکی سی نمی اور ٹھنڈک ہے۔ شاہی قلعے کے شمال میں راوی کنارے بندرگاہ پر چہل پہل ہے۔ بہت سارے جہاز جانے کی…
اعترافِ جرم (مراکشی افسانہ)
میں آپ کو اپنا نام نہیں بتا سکتا۔ نہ ہی وہ دیہات، جہاں اس قصے نے جنم لیا۔۔ کیونکہ وہاں میرے والد ایک عزت دار فرد ہیں، جن سے لوگ خوف زدہ رہتے ہیں۔ میں انہیں شرمسار نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اسی زرخیز زمین میں پیدا ہوئے تھے مگر انہوں نے اپنا مستقبل شہر میں…
لکڑہارا (افسانہ)
پیر پنجال کے کوہساروں سے نکلنے والا دریائے جہلم جمو ں سے ہوتا ہوا جھنگ میں تریموں کے مقام پر دریائے چناب میں شامل ہو جاتا ہے اور یہاں سے ملتان کی جانب صرف دریائے چناب ہی بہتا چلا جاتا ہے۔ تریموں کے جنوب میں دریائے جہلم کا کہیں اتا پتا نہیں ملتا۔ تریموں…
ٹیرس پر بیٹھی شام (افسانہ)
دھک! پروفیسر کانیتکر (KANETKAR) کا دل لمحہ بھر کو جیسے رکا۔ پھر دگنی رفتار سے دھڑک اٹھا اور خون کا دباؤ ان کے چہرے پر غیر مرئی سرخی دوڑا گیا۔۔۔ وہ آ گئی تھی۔۔۔ جسے ’ہیلو‘ کہہ کر پکارا گیا تھا۔ اس نے کیا جواب دیا اور کیا باتیں ہونے لگیں، پروفیسر کانیتکر…
دو فرلانگ لمبی سڑک
کچہریوں سے لے کر لا کالج تک بس یہی کوئی دوفرلانگ لمبی سڑک ہوگی، ہر روز مجھے اسی سڑک پر سے گزرنا ہوتا ہے، کبھی پیدل، کبھی سائیکل پر۔ سڑک کے دورویہ شیشم کے سوکھے سوکھے اداس سے درخت کھڑے ہیں۔ان میں نہ حسن ہے نہ چھاؤں،سخت کھردرے تنے اور ٹہنیوں پر گدھوں کے…
دانۂ گندم (براہوی ادب سے منتخب افسانہ)
دونوں شریر بچے یہ دیکھ کر خوشی سے تالیاں پیٹنے لگے کہ جونہی بوڑھی اماں نے دڑبہ کھولا تو موٹی تازی ولایتی مرغیوں کے ٹولے میں ان کا پسندیدہ کالا دیسی مرغا بھی نکل کر سینہ تانے یوں بانگ دے رہا تھا، گویا نامعلوم دشمن کے خلاف جنگ کا اعلان کر رہا ہو…. وہ…