منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی
منچھر جھیل صرف ایک آبی ذخیرہ نہیں، بلکہ سندھ کی تاریخ میں رچی بسی ایک زندہ تہذیب تھی، مگر آج یہ جھیل ایک ایسا کھلا زخم بن چکی ہے جس پر برسوں سے سرد مہری اور خاموشی کی پٹی باندھی جا رہی ہے۔ کبھی تقریباً اڑھائی سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ میٹھے پانی کی…
ملیر کی کالونائزیشن
ملیر میں آج جس قسم کی صورتحال ہے، جس طرح مقامی لوگوں سے ان کی زمینیں چھینی جا رہی ہیں، ان کی تہذیب ،ثقافت، زبان اور وقار کو جس انداز میں ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے، اسے اگر ’ڈاکٹرائن آف ڈسکوری‘ اور ’ڈاکٹرائن آف ٹیرا نالیس‘ کے تناظر میں ملیر کی…
سرحدوں کے پار بھٹکتے کرغیز خانہ بدوشوں کے سفر کی کہانی
تاریخ کے صفحات پر کچھ کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، جیسے وہ ہوائیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرا کر ان پر اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ جیسے چٹان پر مسلسل قطرہ قطرہ ٹپکتا وہ پانی، جو اس پر اپنا نشان ثبت کرتا ہے۔ یہ بھی ایک اہسی ہی کہانی ہے۔۔ ایک قبیلے…
پناہ کہیں نہیں ہے
میری والدہ کا خاندان پشتو اور فارسی بولتا ہوا ہندوستان آیا اور پھر وہاں کی ست رنگی ثقافت میں یوں رنگا گیا کہ عورتیں بھوج پوری بولتیں اور مرد فارسی اور انگریزی میں زندگی کرتے، پشتو کہیں راستے میں رہ گئی تھی، صرف بندوقیں اور تلواریں تھیں جو افغانستان کی…