منچھر جھیل: خاموش زہر اور ڈوبتی تہذیب کی المناک کہانی
منچھر جھیل صرف ایک آبی ذخیرہ نہیں، بلکہ سندھ کی تاریخ میں رچی بسی ایک زندہ تہذیب تھی، مگر آج یہ جھیل ایک ایسا کھلا زخم بن چکی ہے جس پر برسوں سے سرد مہری اور خاموشی کی پٹی باندھی جا رہی ہے۔ کبھی تقریباً اڑھائی سو مربع کلومیٹر پر پھیلی یہ میٹھے پانی کی…
اکبر گبول اور گرینڈ مسجد (افسانہ)
سحر کی گود میں سورج ابھی نیند سے جاگنے کے لیے اپنی آنکھیں مَل رہا تھا۔ فضا میں اذان کی نرم آواز مصری کی ڈلی کی طرح گُھل کر تحلیل ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا کر آہستہ آہستہ اپنے پر تول رہے تھے۔ ’پہوارو‘ کے پہاڑوں پر قائم ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی ہوا میں…