فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (8)
اس باب کا ایک حصہ ”تشدد عالمی تناظر میں“ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے۔ آج شاید یہ کہنا آسان ہو کہ یہ حصہ بعد از استعماریت پیدا ہونے والی اس صورت حال کی پیش گوئی کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جس سے استعمار زدہ معاشرے اپنی آزادی کے بعد دو چار ہوئے۔ فینون…
فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (7)
سیاسیات کی امریکی فلسفی ہینا آرینڈٹ (Hanna Arendt) نے فینون کے جارحیت یا تشدد (violence) کے تصور پر شدید تنقید کی ہے لیکن اس مقدمے پر اس نے یہ الزام لگایا ہے کہ سارتر نے فینون کے تشدد کے فلسفے کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ یہ تنقید شاید بے جا نہیں…
فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (5)
فینون کا یہ بیان اس کی کتاب کے زیر نظر باب سے میل نہیں کھاتا۔ میسی نے فینون کی تحلیل نفسی میں ناقص تربیت پر کئی سوال اٹھائے ہیں۔ لیون کے جس میڈیکل کالج میں فینون نے تربیت حاصل کی تھی وہاں تحلیل نفسی کا کوئی ماہر فیکلٹی میں نہیں تھا۔ تحلیل نفسی میں تربیت…
فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (3)
”جس نظر سے ایک مقامی (محکوم) آبادکار (استعمار گرد) کے رہائشی علاقوں کو دیکھتا ہے یہ نظر، حسد اور جلن میں لتھڑی ہوئی ہوتی ہے۔ اس نظر سے محکوم کے قبضے کے خواب جھلکتے ہیں۔ یہاں قبضہ سے مراد ہر طرح کا قبضہ ہے۔ یہ محکوم، آباد کار کے گھر میں رہنا اس کی میز…
فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (2)
اکتوبر 1960ء کے آغاز ہی میں وہ دوبارہ بیمار ہو گیا۔ یہ وہ وقت تھا، جب وہ اپنی کتاب افتادگان خاک مکمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ روسی ڈاکٹروں کے رویہ سے دلبرداشتہ فینون نے مرض کے عود کرآنے پر بھی اپنے معالجین سے رابطہ نہیں کیا۔ امریکہ جانے پر وہ ذہنی طور…
فرانز فینون: جائزہ اور افادہ، وفات کے ساٹھ برس بعد (1)
نو آبادیاتی نظام Colonialism کے بارے میں یہ خوش گمانی عرصہ ہوئی دور ہو چکی کہ محکوم ممالک کو آزادی ملنے کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس کا ثبوت پوسٹ کولونیلزم، نیو کولونیلزم، ڈجیٹل کولونیلزم اور ہائپر کلونیلزم جیسی اصطلاحات کا وہ استعمال ہے جو نو…