پھول، مگر مچھ اور زنجیریں (تھائی ادب سے منتخب افسانہ)
اس کی عمر ستائیس اٹھائیس سال کے لگ بھگ ہوگی۔ وہ ایک وجیہہ نوجوان تھا۔ اس کے چہرے پر بظاہر بیماری کے کوئی آثار نہیں تھے۔ نہ اس کا رنگ زرد تھا نہ چہرے پر وحشت کا کوئی نشان بلکہ اس کی آنکھوں سے غیر معمولی ذہانت جھلکیاں مار رہی تھی۔ ہمیں دیکھ کر وہ…
یہ مرد (افسانہ)
کسی قسم کے احساس کے بغیر گوبند نے چپ چاپ لکشمی کی چارپائی کے اردگرد پردے لگا دئیے، پردے۔۔۔ جو لکڑی کے فریم میں سفید کپڑا لگا کر بنائے گئے تھے اور حسبِ خواہش کھولے یا بند کیے جا سکتے تھے۔ تب مس سلطانہ اور بکیٹی تیز تیز چلتی ہوئی آئیں اور ان کے بعد…
امن کا طالب (افسانہ)
(اونچے اونچے محلوں کی دلفریبی میں بدامنی کو مت ڈھونڈ! ان تنگ و تاریک گلیوں میں جا، جنہیں بھوک، اور مفلوک الحالی نے اپنا مسکن بنا رکھا ہے۔) سیاہ لبادے والا، بات بات کی آہٹ لیتا ہوا شہر کی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ اجین کے اونچے مکان آدھی رات کے سناٹے میں…
محبت (افسانہ)
فلسفی نے اپنے نوجوان دوست سے کہا۔۔۔ بلا سوچے سمجھے تاریکی میں مت کودو۔ نوجوان ہنسا۔۔۔ بولا۔۔۔ محبت وہ تاریکی ہے، جس میں کودتے وقت سمجھ اور سوچ کی قوتیں سلب ہو جاتی ہیں اور فہم و فراست جواب دے جاتے ہیں۔ کانجلی بھائی آنند! تم مزے میں ہو، یہ جان کر خوشی…
پنجرے کی قید اور اڑنے کی بیماری
الہاندرو ہودوروسکی کا ایک مشہور قول ہے کہ ”پنجرے میں پیدا ہونے والے پرندے سمجھتے ہیں کہ اڑنا ایک بیماری ہے۔“ ان تیرہ الفاظ میں چھپی معنویت بظاہر مختصر مگر حقیقت میں ایک گہرا فلسفہ پیش کرتی ہے۔ یہ قول زندگی کی ان بندشوں پر سوال اٹھاتا ہے جو ہمیں اندر سے…
امریکی غلاموں کا آزادی تک کا سفر
معاشرے میں جب کوئی طبقہ یا اقلیت ریاست یا اکثریت کی آمریت میں رہتا ہے تو اس کی ترقی کے راستے بند کر دیے جاتے ہیں اور اسے افلاس کی زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ تاریخ میں جب بھی نسل پرستی، فرقہ واریت اور ذات پات کی بنیاد پر کسی جماعت سے تعصب اور نفرت کا…
وقت کی لامحدود انشورنس اور میری متوقع آزادی
اسکول اسمبلی، بچوں کی لمبی قطار اور آنکھیں کھلی رکھنے کی کوشش کرتی میں۔۔۔ ’اس بار بھی گر گئی تو بہت مذاق بنے گا!‘ سردی ہو یا گرمی، مجھے دھوپ سے کافی مسئلہ تھا، لیکن اندر کی بات یہ بھی ہے کہ اس سب میں پرنسپل کی لمبی تقریر کا بھی ایک بڑا ہاتھ تھا۔…
پاکستان اور آزادیِ صحافت: ”ملک چھوڑ دیا، لیکن پھر بھی محفوظ نہیں“
صحافیوں، بلاگرز اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کی کینیا میں ہلاکت کے بعد وہ پہلے سے زیادہ خوفزدہ ہیں کہ مختلف سوچنے، دیکھنے اور لکھنے والوں کو چھوڑا نہیں جائے گا چاہے وہ دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوں، ایسا سوچنے والوں میں کئی پاکستانی صحافی…