ماں بولی (حصہ ششم)
ماں بولی کے اس پڑاؤ میں ہم بات کریں گے برصغیر میں زبان، اقتدار اور تاریخ کی، اور اس حصے میں قدیم ہندوستان سے تقسیم تک کا ذکر کریں گے۔ زبان کبھی محض الفاظ کا مجموعہ نہیں رہی۔ انسانی تاریخ میں زبان ہمیشہ طاقت، علم اور اختیار کے ساتھ جڑی رہی ہے۔ جس کے پاس…
سرحدوں کے پار بھٹکتے کرغیز خانہ بدوشوں کے سفر کی کہانی
تاریخ کے صفحات پر کچھ کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، جیسے وہ ہوائیں جو پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرا کر ان پر اپنے ان مٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ جیسے چٹان پر مسلسل قطرہ قطرہ ٹپکتا وہ پانی، جو اس پر اپنا نشان ثبت کرتا ہے۔ یہ بھی ایک اہسی ہی کہانی ہے۔۔ ایک قبیلے…
شیخ ایاز کا سندھ اور شیخ سحر کا بلتستان
شیر دریا سندھ (سنگے کھابب) بلتستان سے خیبرپختونخوا، پنجاب سے ہوتا ہوا سندھ دھرتی میں بحیرہ عرب میں جا گرتا ہے۔ اس دریا کے کنارے کنارے کئی تہذیبوں نے جنم لیا ہے، یوں بالائی سندھ میں گلگت بلتستان اور انڈس ویلی تہذیب کا آخری کنارہ سندھ ہے، اس طرح ہم اور آپ…
پراسرار داستانوں میں گھری سکردو کی ’اندھی جھیل‘ کی دلچسپ کہانی
آنکھیں خیرہ کرنے والا فطری حسن، فلک بوس سنگلاخ پہاڑی سلسلے اور دِل موہ لینے والے حسین و جمیل نظاروں سے بھرپور گلگت بلتستان بنیادی طور پر دو خطوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ ’بلتستان‘ جب کہ دوسرا ’گلگت‘ کہلاتا ہے۔ سحر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی…
گلگت بلتستان: دسمبر میں منائی جانے والی انوکھی رسم ’نسالو‘ کیا ہے
گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں سردی کی آمد کے ساتھ ہی درختوں سے پتوں کے گرنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، اس خطے میں خزاں کا موسم بھی سیاحوں کو دعوت نظارہ دیتا ہے اور بڑی تعداد میں ہر سال سیاح خزاں کے موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے گلگت بلتستان کا…
گلگت بلتستان کا ’کھوکوش دیو اور قیدی پریاں
’ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سوات اور گلگت کے دور دراز پہاڑوں میں کھوکوش نام کا ایک ظالم دیو رہتا تھا۔ اس کا قد آسمان سے باتیں کرتا تھا جبکہ ہیبت کا یہ عالم تھا کہ کوسوں دور تک کوئی بندہ بشر اس کے علاقے میں قدم نہ رکھتا۔ کھوکوش دیو کا اصل ٹھکانہ…
شیشپر گلیشیئر پر بننے والی جھیل پھٹ گئی، مزید کون کون سے گلیشیئرز غیر معمولی طور پر پگھل رہے ہیں؟
گلگت بلتستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے سربراہ خالد سلیم کے مطابق شیشپر گلیشیئر پر بننے والی جھیل پھٹنے کے بعد سیلاب کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ پانی حسن آباد شاہراہ قراقرم کو بھی متاثر کررہا ہے جبکہ گلگت اور ہنزہ کو آپس میں ملانے والے حسن آباد…
ایک عجوبے قراقرم ہائی وے کی تعمیر: ”جب ایک خاتون نے جیپ کے آگے کھانے کے لیے گھاس رکھ دی“
گلگت – شاہراہ قراقرم، جسے نیشنل ہائی وے 35 بھی کہا جاتا ہے، کی کل لمبائی 1300 کلومیٹر ہے. اس سڑک کا پُرانا نام Silk Route یعنی شاہراہِ ریشم تھا، جو حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور پنجاب، خیبر پختونخواہ اور گلگت بلتستان سے ہوتی ہوئی خنجراب پاس پر چین…