گوادر کیوں ڈوبا اور کیا مستقبل میں بھی ڈوبے گا؟
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں حالیہ بارشوں کے بعد ہونے والی تباہی نے 35 سالہ شاہ نواز اور ان کے چار کزنز کی زندگی یکسر بدل دی ہے۔ بارشوں کے دوران سمندر میں اٹھنے والی اونچی لہریں گوادر کے رہائشی علاقے بلوچ وارڈ میں داخل ہو گئی تھیں، جہاں کئی نسلوں سے…
گوادر پاکستان کو کیسے ملا؟
12 گست 1958 کو برٹش آرکائیوز میں ایک خط آتا ہے جس پر ’خفیہ‘ کی مہر ثبت ہے۔ یہ خط گوادر کی پاکستان کو حوالگی سے متعلق ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ ’لندن میں جاری حالیہ ملاقاتوں کے بعد مسقط کے سلطان گوادر کو پاکستان کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں…
گوادر کا شاہی بازار اور تاریخی ’کریمک ہوٹل‘
کریمک ہوٹل شاہی بازار میں واقع ہے، جس کے ساتھ مشہور گوادر کی سوغات خدا بخش گوادری کی حلوے کی دکان ہے۔ اس تنگ گلی میں بس یہی ہوٹل اور ایک پان کی دکان کئی سال گزرنے کے بعد اب بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قطار میں کھڑے خستہ حال، کھنڈر نما اور ٹوٹ…
’گوادر کے عوام کہیں اپنے ہی علاقے میں اقلیت بن کر نہ رہ جائیں‘
گزشتہ چند ہفتوں سے گوادر کے حوالے سے پریشان کُن خبریں سامنے آرہی ہیں۔ وہاں کچھ لوگ ایک سیاسی رہنما کی سربراہی میں اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں اپنی سمندری حدود میں مچھلیوں کے شکار کی اجازت، ماہی گیروں کی بستیوں کا تحفظ، مقامی آبادی کو روزگار…