کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (قسط دوم)
وادی پاچران سے آگے بڑھتے ہوئے ہمارا سفر مول کے تاریخی شہر کی جانب جاری تھا، جہاں راستے میں مول ندی جیسی خوبصورت ندی بھی پڑتی ہے۔ مول ندی نہ صرف جامشورو بلکہ کراچی کے ملیر کی ایک وسیع اراضی کے لیے بھی بے حد اہم ہے، خاص طور پر ملیر ندی کے تناظر میں…
مصنوعی جھیل ہالیجی کی بحالی کیوں ضروری ہے؟
ٹھٹہ – نگاہ تک پھیلا مٹیالا پانی، پانی کے بیچ میں چھوٹے جزائر میں ہوا کے دوش پر لہلہاتی آبی گھاس، پانی کے اوپر اڑتے ہوئے آبی پرندے، کنارے پر کھڑے پیپل کے درختوں پر بیٹھے پرندوں کی چہچہاہٹ، کچھ دور پانی میں ڈبکیاں لگاتی ہوئی رنگ برنگی بطخیں۔ یہ…