اداس چہرہ (جرمن ادب سے منتخب شاہکار افسانہ)
میں بندرگاہ کے کنارے کھڑا تھا اور اُن سمندری پرندوں کو غور سے دیکھ رہا تھا، جو بار بار پانی میں غوطہ لگاتے اور بھیگتے ہوئے جسموں سے پانی جھاڑنے کے لیے اپنے پروں کو پھڑپھڑاتے تھے۔ ان کے پروں سے پانی یوں ٹپک رہا تھا، جیسے پھولوں پر شبنم ٹپکتی ہے……