شاداب نگر کا چینی بھوت (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
’یار سکندر سچ بتا، اتنا سستا فلیٹ کیسے مل گیا اور وہ بھی شاداب نگر کی پہاڑی پر؟‘ جب علی کے اصرار کرنے پر سکندر نے فلیٹ کی اصل قیمت بتائی، تب اس نے بے صبری سے پوچھا۔ ’ہاں یار جھوٹ تھوڑی بولوں گا تجھ سے اور ویسے بھی باس نے بتایا تھا کہ اپنا…
ولیمائی (چلی کے ادب سے منتخب افسانہ)
میرا نام ’ولیمائی‘ Walimai میرے والد نے رکھا تھا۔ شمال میں ہمارے بھائیوں کی زبان میں اس کا مطلب آندھی ہے۔ میں تمہیں اپنا نام پکارنے کی اجازت دیتا ہوں، کیونکہ اب تم میری بیٹی کی طرح ہو۔۔ لیکن یہ بھی اس وقت، جب ہم خاندان والوں کے ساتھ ہوں۔ اس لئے کہ اشخاص…
عکسِ بے خیال (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے کئی دنوں سے پرانا گھر میرا پیچھا کر رہا ہے، اس گھر میں میری زندگی کے بہت سے سورج طلوع اور غروب ہوئے۔ میں نے زندگی کے پہلے زینہ پر وہیں قدم رکھا تھا اور جب میں وہاں سے نکلا تو زندگی کے زینے اتر رہا تھا۔ وہاں کی ایک ایک دیوار پر میری…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…
فلسفہِ عمل (افسانہ)
سر موہن لال نے ریلوے اسٹیشن کی فرسٹ کلاس انتظار گاہ کے آئینہ میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی۔ آئینہ چونکہ ہندوستان میں بنا تھا، لہٰذا اس کے پیچھے لگا سرخ آکسائیڈ (red oxide) جگہ جگہ سے نکل چکا تھا اور آئینے کی بیرونی نیم شفاف سطح پر آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئی…
ڈپٹی کلکٹر (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
شکلدیپ بابو قریب ایک گھنٹے بعد واپس لوٹے۔ گھر میں داخل ہونے کے بعد انہوں نے برآمدے کے کمرے میں جھانکا، کوئی موکل نہیں تھا اور محرر صاحب بھی غائب تھے۔ وہ اندر چلے گئے اور اپنے کمرے کے سامنے برآمدے میں کھڑے ہو کر بندر کی مانند آنکھیں مٹکا مٹکا کے انہوں نے…
قرض (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
نانبائی لوئب کے تندور میں سفید روٹیاں ابھی بھوری نہیں ہوئی تھیں، مگر خریدار پہلے ہی اس کی اشتہا انگیز خوشبو سے متاثر ہوکر وہاں چلے آئے تھے۔ لوئب کی دوسری بیوی ’بیسی‘ کاؤنٹر کے پیچھے تیاری میں مصروف تھی۔ اس نے لوگوں کے درمیان ایک اجنبی خستہ حال شخص کو…
قدرت نے لیا بلونت سنگھ سے انتقام (افسانہ)
رات کے آخری پہر دروازے پر دستک ہوئی۔ اپنے بیٹے کا پیٹ پالنے کی خاطر دوسروں کے گھر کام کر کے تھکی ماندی پونم اٹھی اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولی ”ضرور یہ بلونت ہوگا“ اور دروازہ کھول دیا شراب کے نشے میں دھت بلونت سنگھ دروازہ کھلتے ہی نیچے گر گیا۔ وہ زخمی…