امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
مرغ یا مرغی؟ (فلپینی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے بھائی کیکو کے پاس ایک زمانے میں بڑا ہی خاص پرندہ تھا۔ خاص اس لیے کہ کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر تھا کہ وہ مرغ ہے یا مرغی۔۔ بھائی کا ماننا تھا کہ یہ مرغ ہے، میرا کہنا تھا کہ یہ مرغی ہے۔ اس مدعے پر ہماری اتنی بحث ہوئی کہ ہم پٹتے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط73)
کھانا کھانے کے بعد میں جھیل کے کنارے اکیلا ہی چلا آیا ہوں، گہری اور وسیع جھیل میں ہلکی ہلکی موجیں دھیمے سروں میں گنگناتی محسوس ہو رہی ہیں۔ کشتیاں سطح آب پر بگلوں کی طرح سر اٹھائے محو سفر ہیں، دور مچھلیاں پکڑنے والے مچھیرے اپنے جال تھامے اونچے سروں میں گا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط34)
اب ہم خوشحال خاں خٹک کی سرزمین پر ہیں۔۔ گل گنٹردہ دتورے، کہ کابک دے کہ کشمیر۔ میٹرنی دی چہ یادیگی، پہ سمندر وہم پہ دلیر۔۔ (خوشحال خاں خٹک) (فتح تلوار کی مرہونِ منت ہے چاہے کابل ہو یا کشمیر۔ فاتح اور بہادری کو لوگ یاد رکھتے ہیں۔ اپنے گیتوں میں بھی اور…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط32)
”چلاسی عورت بہت محنتی ہے، سارا دن کام کرتی ہے۔ مجال ہے کسی کے جسم پر ذرا سا بھی موٹاپا نظر آئے۔پیدل سفر، دن بھر کی مشقت، سادہ غذا سبھی موٹاپے کے دشمن ہیں۔ یہاں کی عورت صبح سویرے اٹھتی ہے۔ دودھ دوھنے سے لے کر لسی بنانے اور مکھن نکالنے تک، ناشتے سے رات…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (اکیسویں قسط)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی؛ ”راستے میں بہت سی جگہوں کے پرانے لداخی طرز کے نام اب تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ مثلاً ’پرکوٹا‘ اب ’مہدی آباد‘ ہے، ’گڈی کاسڈو‘ اب ’گڈی خاد‘ ہے اسی طرح ’وداشا‘ اب ’چٹانگ‘ ہے وغیرہ وغیرہ۔ اولڈنگ بھی نیا نام ہے پرانا نام ’اول…
انجان نگر میں کھلی ایک کھڑکی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ وہاں رہنے کے لئے کیوں گیا تھا؟ اسے خود بھی اس کی وجہ معلوم نہ تھی۔۔ لیکن شاید اسے معلوم تھا۔۔۔ وہ وہاں اس لئے گیا تھا کہ وہاں کا مخصوص منظر اس کی پریشانیاں دور کر سکے؛ کھلی جگہیں، کھیت، خاموشی، ماضی کے گھروندے۔۔ جب گھر، گھر ہُوا کرتے تھے؛ جن کے اندر…