بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
بوسنیا و ہرزیگووینا محض ایک جغرافیائی خطے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی عزم، بقا کی جنگ اور ثقافتی تنوع کا ایک ایسا روشن باب ہے جسے عالمی طاقتوں اور مورخین نے اکثر حاشیے پر رکھا۔ یورپ کے عین قلب میں واقع یہ ملک – جو ویانا سے اتنا ہی قریب ہے جتنا کہ…
ٹیکسلا کی لوک کہانیاں جو دو ہزار سال بعد بھی زندہ ہیں
ٹیکسلا کس نے بسایا، یہ سوال حل طلب ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اگر سر جان مارشل تقریباً سو سال پہلے ٹیکسلا کی کھدائیاں نہ کرتے اور یہاں سے وہ کتبہ دریافت نہ کرتے جس پر شہر کا نام ٹیکسلا لکھا ہوا تھا توہم آج بھی اس شہر کو شاہ ڈھیری ہی پکار رہے…
تاریخی یادگاریں: عظمت یا عبرت کے نشانات؟
ماضی میں کچھ حکمرانوں کی خواہش رہی تھی کہ وہ آبِ حیات پی کر ہمیشہ کے لیے زندہ رہیں۔ آبِ حیات تو نہ مِلا لیکن اُس کے بجائے اُنہوں نے اپنی یادگاریں تعمیر کرائیں تا کہ لوگ اُنہیں بھلا نہ سکیں۔ تاریخ میں حکمران اور فاتح اپنی یادگاریں جن میں مینار، ستون،…
کیا حکمرانوں کا لالچ تباہ ہوتے کھیرتھر نیشنل پارک کے بعد اب کارونجھر کے تاریخی پہاڑ بھی کھا جائے گا؟
پہاڑ صرف نظارہ کرنے کے لیے ایک منظر نہیں، بلکہ وہ سیارے کی زمینی سطح کا 22 فیصد احاطہ کرتے ہیں اور پودوں، جانوروں اور تقریباً ایک ارب انسانوں کے لیے مسکن فراہم کرتے ہیں۔ یہ پہاڑ اہم وسائل جیسے تازہ پانی، خوراک اور یہاں تک کہ قابل تجدید توانائی بھی فراہم…