کل اور آج
یہ بہت پرانی کہانی ہے۔ برصغیر کے بٹوارے سے زیادہ پرانی کہانی ہے۔ تب ہندوستان میں انقلابیوں کی کمی نہیں تھی۔ گلی کوچوں میں انقلابی گھومتے پھرتے نظر آتے تھے۔ تب ہم چھوٹے تھے، بلکہ چھوٹے بچے تھے۔ حیران ہو کر ہم انقلابیوں کو دیکھتے تھے۔ دیکھنے میں وہ عام…
ہمارے خالی ہاتھوں میں تصویریں بھی ورچوئل ہیں
میرے دادا سات برس کے تھے، جب ان کے والد فوت ہوئے۔ طاعون تھا برصغیر میں، بہت زوروں کا۔۔ 1918 کا سن تھا اور کوئی گھر ایسا نہیں تھا جس سے میت نہ اٹھی ہو۔ انہوں نے اپنے والد یعنی میرے پردادا کے بارے میں بہت کچھ لکھا، جو مجھے ان کی ڈائری سے پتا…
پاکستانی معاشرے کو بھی رومی تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے
رومی مؤرخ یونانی تاریخ دانوں سے متاثر تھے۔ جن میں ہیروڈوٹس(BC 425) اور تھیوسی ڈیڈیز قابلِ ذِکر ہیں۔ ہیروڈوٹس نے تاریخی واقعات کو افسانوی رنگ دے کر پیش کیا ہے تاکہ پڑھنے اور سننے والوں کو اس میں دلچسپی رہے۔ اس کے مقابلے میں تھیوسی ڈیڈیز کے ہاں واقعات کی…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط67)
محمد الیاس انصاری جو یہاں کھدائی کے کام سے 1988ء سے وابستہ ہیں (ان کے دادا اور والد اس شہر کی ابتدائی کھدائی کرنے والوں میں شامل تھے) کہتے ہیں؛ ”کھدائی کے دوران ہمیں ہار، چھوٹے کھلونے، مورتیاں، کنگن اور دوسری اشیاء ملی ہیں۔“ اس شہر کی ایک خاص بات یہ ہے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط62)
سندھو بتاتا ہے ”معصوم شاہ مینار کے علاوہ میرے کنارے 1934ء میں تعمیر کی گئی کنہیا لال کوٹج (آج کی ملک حویلی) اپنے منفرد طرزِ تعمیر کی وجہ سے دور سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر قابلِ ذکر مقامات میں ہندو راج کی عمارات کالی دیوی کا آستان، سادھ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط60)
ہم کشمور اور گڈو بیراج کو پیچھے چھوڑتے روہڑی کو رواں ہیں۔بایک سو ساٹھ (160) کلو میٹر کی یہ مسافت انشاءاللہ ہم اڑھائی گھنٹے میں طے کریں گے۔سندھو لمبی خاموشی توڑتے بولا؛ ”سنو سیاحو! کیا تم میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ مجھ پر کُل کتنے بیراجز تعمیر کئے گئے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط57)
میں اپنے دوست ستاروں کو چاندا ماموں کے گرد جھرمٹ میں چمکتے دیکھ رہاہوں۔یہ دلفریب نظارہ ہے۔ بچپن سے ہی مجھے ان ستاروں اور چندا ماموں سے خاص نسبت ہے۔ اس زمانے میں آسمان صاف اور ستاروں سے چمکتا دمکتا ہوتا تھا۔ کئی بار لگتا یہ ستارے مجھ سے زیادہ دور نہیں ہیں…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط56)
”تم جانتے ہو؟“ سندھو نے مجھ سے پوچھا اور حسب عادت میرا جواب سنے بغیر ہی وہ بتانے لگا؛ ”نواب صاحب نے اس جہاز کو حکومت کے حوالے کیا تو اس کا کنٹرول محکمہ شاہرات حکومت پنجاب کو ملا۔ یہ خراب ہوا تو اس کے پرزے بھی لوگ چوری کرنے لگے۔ ہمیں تو بس موقع…