گوادر پاکستان کو کیسے ملا؟
12 گست 1958 کو برٹش آرکائیوز میں ایک خط آتا ہے جس پر ’خفیہ‘ کی مہر ثبت ہے۔ یہ خط گوادر کی پاکستان کو حوالگی سے متعلق ہے، جس میں لکھا گیا ہے کہ ’لندن میں جاری حالیہ ملاقاتوں کے بعد مسقط کے سلطان گوادر کو پاکستان کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں…
گوادر کا شاہی بازار اور تاریخی ’کریمک ہوٹل‘
کریمک ہوٹل شاہی بازار میں واقع ہے، جس کے ساتھ مشہور گوادر کی سوغات خدا بخش گوادری کی حلوے کی دکان ہے۔ اس تنگ گلی میں بس یہی ہوٹل اور ایک پان کی دکان کئی سال گزرنے کے بعد اب بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ قطار میں کھڑے خستہ حال، کھنڈر نما اور ٹوٹ…
گوادر کی گلیوں میں عمان دور کی یادیں
گوادر – 8 ستمبر، 1958 کو پاکستان نے عمان سے گوادر انکلیو خریدا اور یوں گوادر باضابطہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا۔ عمان کی ریاست سے الگ ہو کر پاکستان کا حصہ بننے والے ساحلی شہر گوادر میں عرب ثقافت کے نشان آج بھی پائے جاتے ہیں پاکستان کی حکومت نے یکم…
کہیں ہم گوادر کے آثارِ قدیمہ گنوا نہ دیں
اگست کا گرم دن تھا، شام ڈھلنے سے پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کریموک ہوٹل میں چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ ہوٹل میں مچھیرے بھی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہمارے ساتھ بیٹھے بیشتر ماہی گیروں کو شاید یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ‘کریموک ہوٹل’ گوادر کے…