سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط74)
سندھو بتاتا ہے ”آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی سندھو کے پانی میں کمی کا گلہ ہے۔ پانی کا یہ قدرتی ذخیرہ کتنی تیزی سے کم ہو رہا ہے کوئی بھی درست اندازہ لگانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ اگر پاکستان میں سندھ اور پنجاب واسی تمھارے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط69)
دادو کبھی پرسکون خطہ تھا، سندھو خاموش اور تنہا بہتا تھا۔ آج یہ پرشور جگہ ہے۔ سندھو پر بنے پل سے لاریاں، ٹرک اور رنگ رنگ کی گاڑیاں دھواں اڑاتی اور مشینی دور کا انسان شور مچاتا گزرتا ہے۔ سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی درگاہ بھی واقع ہے داستان گو…
شیر دریا، پانی کے دیوتا اور زندہ پیر کی کتھا (حصہ اوّل)
پانی کی کہانی بہت پرانی ہوسکتی ہے، اتنی پرانی جتنی پرانی کہانی حیات کے ارتقا کی ہے۔ اگر کسی نہر کے کنارے بیٹھ کر ہم مٹیالے پانی کو دیکھتے ہوئے ایک لکیر کھینچیں جب زندگی کسی نہ کسی صورت میں تخلیق ہوئی ہوگی تو اس طویل راستے کی قدامت جاننے کے لیے ہمیں ابھی…