سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط50)
سندھو پھر سے سرگوشی کرنے لگا ہے؛ ”اونٹ یہاں کی اہم سواری ہے۔ اس کی پیٹھ پر بوروں میں کپاس لاد کر لائی لے جائی جاتی ہے یا پھر اونٹ گاڑی کھینچ رہے ہوتے ہیں یا ساربان کے پیچھے قطار میں چلتے قدیم زمانے کی عکاسی کر تے ہیں۔ ان کے گلے میں بندھے ٹل…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط35)
سندھو کچھ خاموشی کے بعد داستان آگے بڑھانے لگا ہے، ”ہم پٹن سے تقریباً اڑتیس (38) کلو میٹر دور ’بشام‘ پہنچے ہیں۔ شانگلہ کا ضلعی ہیڈ کوراٹر ایک اہم تعلیمی و تجارتی مرکز ہے۔ آج کے سوات اور رگ وید کا ’اودیانہ‘۔ مقدونیہ کا سکندر بھی یہاں فوج سمیت اترا تھا۔…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 20)
مرول ٹاپ بادلوں میں چھپ کر پیچھے رہ گیا ہے۔ سڑک قراقرم کے پہاڑوں پر سندھو کے سنگ بل کھاتی ہمالیہ کے پہاڑوں میں گھری پاک فوج کی چھوٹی چھاؤنی ’ہمزی گونڈ‘ (قمریگون) کو رواں ہے۔ یہ ممنوع علاقہ (restricted area) ہے۔ اس چھاؤنی کو مرکزی سڑک سے ملاتا واحد زمینی…