سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 15)
صبح سے اب تک کے سفر نے مجھے بھی تھکا دیا ہے۔ میں آرام کی غرض سے سندھو کنارے بنے ’ہمالیہ ان‘ چلا آیا ہوں۔ کچھ آرام کے بعد باہر آیا تو چندا ماموں پہاڑوں کی اوٹ سے افق پر نمودار ہوتے بلندی کی جانب گامزن ہیں۔ چاندنی نے ماحول کو تاباں اور خوشگوار کر…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 11)
سورج کی نارنجی کرنیں افق پر اپنے رنگ بکھیرنے لگی ہیں۔ سندھو کی گزرگاہ کا یہ علاقہ قابل دید ہے مگر یہاں زندگی بڑی سخت لیکن بے کیف نہیں کیونکہ راستے اور پگڈنڈیاں جو اس وادی سے گزرتی ہیں، مختلف زمانوں میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے مذہبی زائر اور تجار…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 8)
”میرے دوست؛ قدیم دور میں میرے اس بالائی خطے میں پل (برج) نہ تھے۔ مسافر، مقامی لوگ اور جانور تیر کر یا پیدل ہی مجھے عبور کرتے تھے۔ پھسلتے پتھروں اور تند و تیز لہروں میں مجھے پار کرنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ خچر، یاک اور ٹٹو طاقت ور تیراک ہیں۔ آدمی ان کی…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 6)
چلو میں اپنی کہانی آگے بڑھاتا ہوں، ”دارا پہلا بادشاہ تھا جس نے میرے منبع کی تلاش میں اپنے سالار ’اسکا لکس‘ کو بھیجا۔ پہلا یونانی ’کنیشاس‘ تھا جس نے ایرانیوں کو میرے بارے معلومات فراہم کیں۔ سکندر کے مورخین میں ’ٹالمی، آریان، سواٹر، نیرچس‘ وغیرہ نے مجھ پر…
سندھو سلطنت: دریائے سندھ کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط: 1)
شہزاد حمید پیشہ ور لکھاری نہ ہونے کے باوجود لاتعداد پیشہ ور لکھنے والوں سے کہیں بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی تحریروں میں اس کی شخصیت کا عکس بہت نمایاں ہے جو شرافت، نجابت، متانت، محنت اور صداقت کا نایاب کومبینیشن ہے اس کی یہ زیر نظر کتاب کسی شہکار سے کم نہیں کہ…
بُک ریویو: ’سندھو گھاٹی اور سمندر‘
’سندھو گھاٹی اور سمندر‘، ابوبکر شیخ کی تیسری کتاب ہے۔ مصنف کا تعلق زیریں سندھ کے ضلع بدین سے ہے اور وہ تقریباً 3 دہائیوں سے ماحولیاتی تحفظ اور ماہی گیروں کے حقوق کے حوالے سے متعدد بار قلم اٹھا چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ ابوبکر شیخ کی گزشتہ دو کتابوں، ’نگری…