کاکڑاں کا تَیلی
’’اڑھائی روپے!‘‘ مولو نے طنز سے سر ہلا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا، ان نگاہوں سے جو گویا کہہ رہی تھیں کہ کم بخت تانگے والے کی عقل شاید گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ ابھی مشکل سے آٹھ ساڑھے آٹھ کا وقت ہوگا، لیکن دن پہاڑ سا نکل آیا تھا۔ سورج عین سر پر…
پچاس سال قبل چرائے گئے مبلغ ساڑھے 37 روپے اور ضمیر کا بوجھ۔۔
یہ صرف ساڑھے سینتیس روپوں کی کہانی نہیں ہے۔۔ اس کہانی میں چرائے گئے ان ساڑھے سینتیس روپوں کا بوجھ بھی ہے اور ضمیر میں کانٹے بن کر چبھتا تاسف اور پچھتاوا بھی، جو بالآخر پچاس سال بعد ایک ایسے فیصلے میں ڈھلتا ہے، جو حیران کن ہے! اس کہانی کا تعلق 1970 کی…