پیتل کا گھنٹہ (منتخب افسانہ)
آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے، لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ…
شیلٹر ہوم میں عید منانے والی افسانہ نگار
عید کی آمد آمد تھی، لوگ اپنے اپنے طریقہ سے عید منانے کی تیاریوں میں مصروف تھے، فوٹو جرنلسٹ اور ٹی وی اینکر پرسن ربابہ میرزئی بھی اپنی عید کوریج کے سلسلہ میں شہر سے باہر ایک شیلٹر ہوم یا بوڑھے اور نادار لوگوں کی پناہ گاہ آئی ہوئی تھی۔ اس کا یہ پروگرام عید…
پازیب (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
بازار میں ایک نئی طرح کی پازیب چلی ہے۔ پیروں میں پڑ کر وہ بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کڑیاں آپس میں لچک کے ساتھ جڑی رہتی ہیں کہ پازیب کی گویا اپنی شکل کچھ نہیں ہے، جس پاؤں میں پڑے، اسی کے مطابق رہتی ہے۔ پاس پڑوس میں تو سب ننھی بڑی…
رخصت کی اجازت (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
پیارے تِھیو! یہ خط اگر تمہیں قدرے طویل اور اپنی یک رنگی کے باعث کچھ عجیب بھی لگے، تو بھی اسے بڑے دھیان سے پڑھنا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ اگر میں یہ بھی کہوں کہ یہ شاید میرا تمہارے نام آخری خط ہے، تو بھی ڈر نہ جانا کیونکہ میرا نہ…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…
فلسفہِ عمل (افسانہ)
سر موہن لال نے ریلوے اسٹیشن کی فرسٹ کلاس انتظار گاہ کے آئینہ میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی۔ آئینہ چونکہ ہندوستان میں بنا تھا، لہٰذا اس کے پیچھے لگا سرخ آکسائیڈ (red oxide) جگہ جگہ سے نکل چکا تھا اور آئینے کی بیرونی نیم شفاف سطح پر آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئی…
قرض (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
نانبائی لوئب کے تندور میں سفید روٹیاں ابھی بھوری نہیں ہوئی تھیں، مگر خریدار پہلے ہی اس کی اشتہا انگیز خوشبو سے متاثر ہوکر وہاں چلے آئے تھے۔ لوئب کی دوسری بیوی ’بیسی‘ کاؤنٹر کے پیچھے تیاری میں مصروف تھی۔ اس نے لوگوں کے درمیان ایک اجنبی خستہ حال شخص کو…
قدرت نے لیا بلونت سنگھ سے انتقام (افسانہ)
رات کے آخری پہر دروازے پر دستک ہوئی۔ اپنے بیٹے کا پیٹ پالنے کی خاطر دوسروں کے گھر کام کر کے تھکی ماندی پونم اٹھی اور دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولی ”ضرور یہ بلونت ہوگا“ اور دروازہ کھول دیا شراب کے نشے میں دھت بلونت سنگھ دروازہ کھلتے ہی نیچے گر گیا۔ وہ زخمی…