کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
بے گور (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کلکتہ کے فائیواسٹار ہوٹل میں ایک کمرے کی گھنٹی کی آواز سن کر امریکی ڈاکٹر دروازہ کھولنے لگا۔ ’’کون؟‘‘ ’’میں رام دین ہوں صاحب۔‘‘ ’’تم آ گئے؟ آؤ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔‘‘ ’’اگر آپ تیار ہیں تو چلیے۔‘‘ ’’ہاں چلو، کیا پورے پچاس کا انتظام ہو گیا؟‘‘…
حسنِ خوابیدہ کے سنگ پرواز
وہ خوب صورت اور نازک تھی۔ ملائم گندمی رنگت، سبز بادامی آنکھیں اور کاندھوں کو چھوتے کالے بال۔ اس کے گرد قدامت کا ایسا ہالہ تھا جو انڈونیشی بھی ہو سکتا تھا اور اینڈیز کا بھی۔ اس کے لباس میں بھی نفاست اور نازکی تھی۔ جنگلی بلی کی سُمور والی جیکٹ، راسلک کا…
پیتل کا گھنٹہ (منتخب افسانہ)
آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے، لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ…
پازیب (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
بازار میں ایک نئی طرح کی پازیب چلی ہے۔ پیروں میں پڑ کر وہ بڑی اچھی معلوم ہوتی ہے۔ اس کی کڑیاں آپس میں لچک کے ساتھ جڑی رہتی ہیں کہ پازیب کی گویا اپنی شکل کچھ نہیں ہے، جس پاؤں میں پڑے، اسی کے مطابق رہتی ہے۔ پاس پڑوس میں تو سب ننھی بڑی…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…
رخصت کی اجازت (جرمن ادب سے منتخب افسانہ)
پیارے تِھیو! یہ خط اگر تمہیں قدرے طویل اور اپنی یک رنگی کے باعث کچھ عجیب بھی لگے، تو بھی اسے بڑے دھیان سے پڑھنا اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ اگر میں یہ بھی کہوں کہ یہ شاید میرا تمہارے نام آخری خط ہے، تو بھی ڈر نہ جانا کیونکہ میرا نہ…
تیسرا کنارا (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے والد ذمہ دار، منظم اور ہر کام سلیقے سے کرنے کے عادی تھے۔ اس بات کی تصدیق گرد و نواح کے کئی قابلِ اعتماد اشخاص نے کی کہ وہ بچپن ہی سے ان خصوصیات کے حامل تھے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، وہ نہ زیادہ ہنس مکھ تھے نہ بہت زیادہ رنجیدہ،…