پیتل کا گھنٹہ (منتخب افسانہ)
آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے، لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ…
سانپوں سے نہ ڈرنے والا بچہ (افسانہ)
عبدالمنان سے وہ میری آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد سے اسے دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئیں۔ جب بھی دفتر کے کیمپس میں داخل ہوتے ہوئے آدم قد چہار دیواری پر نظر پڑتی تو نگاہوں میں عبدالمنان روشنی کے جھماکے کی طرح نمودار ہوتا۔ اس کا دبلا پتلا جسم۔ دھونکنی کی…
تیسرا کنارا (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے والد ذمہ دار، منظم اور ہر کام سلیقے سے کرنے کے عادی تھے۔ اس بات کی تصدیق گرد و نواح کے کئی قابلِ اعتماد اشخاص نے کی کہ وہ بچپن ہی سے ان خصوصیات کے حامل تھے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، وہ نہ زیادہ ہنس مکھ تھے نہ بہت زیادہ رنجیدہ،…
عکسِ بے خیال (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
پچھلے کئی دنوں سے پرانا گھر میرا پیچھا کر رہا ہے، اس گھر میں میری زندگی کے بہت سے سورج طلوع اور غروب ہوئے۔ میں نے زندگی کے پہلے زینہ پر وہیں قدم رکھا تھا اور جب میں وہاں سے نکلا تو زندگی کے زینے اتر رہا تھا۔ وہاں کی ایک ایک دیوار پر میری…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…
سفاک ماں (فرانسیسی ادب سے منتخب افسانہ)
میں پندرہ سال بعد موسم خزاں میں شکار کھیلنے کے لیے ’ویر لون‘ (فرانس کا ایک قصبہ) واپس آیا۔ اپنے دوست سرول کے ہاں قیام کیا۔ اس نے اپنی گاؤں والی حویلی، جسے پروشیائی تباہ کر گئے تھے، دوبارہ تعمیر کرلی تھی۔ میں اس علاقے کا دلدادہ تھا۔دنیا میں کچھ جگہیں ایسی…
سرکس (امریکی ادب سے منتخب افسانہ)
لکڑی کے ستونوں پر رکھے ہوئے لمبے تختے پہاڑ کی طرح اوپر اٹھتے چلے گئے تھے، اور بیضوی شکل میں چاروں طرف اس طرح پھیلے ہوئے تھے کہ دیکھ کر بندہ چکرا جائے۔ لوگ ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے تھے۔ ڈائسی نے کہا ”یوں قریب قریب بیٹھے ہیں، جیسے کتے کے کان پر جوئیں۔“ اس نے…
فلسفہِ عمل (افسانہ)
سر موہن لال نے ریلوے اسٹیشن کی فرسٹ کلاس انتظار گاہ کے آئینہ میں اپنے آپ پر ایک نظر ڈالی۔ آئینہ چونکہ ہندوستان میں بنا تھا، لہٰذا اس کے پیچھے لگا سرخ آکسائیڈ (red oxide) جگہ جگہ سے نکل چکا تھا اور آئینے کی بیرونی نیم شفاف سطح پر آڑی ترچھی لکیریں ابھر آئی…