نیند، خوف اور سابقہ بازی گر (منتخب افسانہ)
وہ موت کے کنویں میں موٹرسائیکل چلاتا تھا اور اس کی بیوی کو نیند میں چلنے کی عادت تھی۔ وہ جب سارا دن موٹرسائیکل چلا چلا کر تھکا ہارا گھر آ کر سو جاتا تو رات کے کسی پہر اس کی بیوی جاگ جاتی اور اس کی جیبوں کی تلاشی لینے لگتی۔ اسد علی بازی…
زویا (یوگوسلاوین ادب سے منتخب افسانہ)
جب کسی شخص کی بچپن کی عرفیت لوگ اس کی زندگی کے آخری ایام تک یاد رکھتے ہیں تو یہ خود اس کے اور لوگوں میں اس کی حیثیت کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ میری ذاتی یادوں میں ایک بوڑھی ناتواں عورت ہمیشہ زندہ رہتی ہے جو ہمیشہ سرمئی اسکارف باندھتی تھی اور…
کھیت میں پیدا ہونے والا بچہ (ترک ادب سے منتخب افسانہ)
کپاس کے کھیت میں حدِ نظر پندرہ بیس مزدور مرد اور عورتیں دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ کپاس کے تخم دار بوٹوں کے اطراف میں اُگ آنے والے جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو صاف کررہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ فصل بھی کاٹ رہے تھے۔ درجۂْ حرارت تیز دھوپ میں 41 سینٹی گریڈ تک پہنچا…
پیتل کا گھنٹہ (منتخب افسانہ)
آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے، لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ…
جانوس (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
آندھی کے آثار تھے۔ دور شمال کی طرف آسمان زیادہ تاریک ہو گیا تھا اور فضا میں ہلکی سنسناہٹ تھی۔ ہوا کی رفتار تیز ہو چکی تھی، لیکن ابھی اس میں ناہمواری نہیں آئی تھی۔ اس رات بھی مجھ کو نیند نہیں آ رہی تھی مگر میں نے بستر پر لیٹ کر بجلی بجھا دی۔…
جھوٹ کی سرزمین (عبرانی ادب سے منتخب افسانہ)
رَوبی نے پہلا جھوٹ تب بولا تھا، جب وہ سات سال کا تھا۔ اس کی ماں نے اسے شِکنوں سے بھرا ایک پرانا نوٹ دیا اور اسے کہا کہ وہ کریانے والی دکان پر جائے اور اس کے لیے کنگ۔سائز ’کینٹ‘ سگریٹوں کا ایک پیکٹ لائے۔ رَوبی نے اس کی بجائے ایک آئس کریم کون…
گدا (ایرانی ادب سے منتخب افسانہ)
صحرا۔ بیچوں بیچ میں ایک کنواں، جس کے گرد کانٹوں دار تار کی باڑھ کھنچی ہوئی ہے۔ باڑھ کے سلاخچے کے پاس ایک بڑا سا ڈول رکھا ہوا ہے۔ ڈول پر موٹی رسی لپٹی ہوئی ہے۔ مسافر، تھکا ہارا اور ننگے پاؤں، پتلون قمیص پہنے، پسینے میں تربتر، اسٹیج پر آتا ہے۔ بہت پیاسا…
لاٹری ٹکٹ (روسی ادب سے منتخب افسانہ)
ایوان دمتریچ ایک مڈل کلاس آدمی تھا۔ اپنے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ کُل بارہ سو سالانہ آمدنی تھی، جس پر وہ صابر و شاکر تھا۔ شام کا ہلکا پھلکا کھانا کھانے کے بعد صوفے پر اخبار پڑھنے بیٹھ گیا۔ ”میں تو آج صبح اخبار پڑھنا بھول ہی گئی۔“ اس کی بیوی نے اسے میز…