زمیں زادے (افسانہ)
رات کی سیاہی اپنی چادر پھیلا چکی تھی اور چہار سو مہیب خاموشی کا راج تھا۔ ریڈ انڈین قبیلے کا ایک بوڑھا شخص ایلان، قدیم جنگل کے کنارے اداس بیٹھا تھا، جہاں کبھی اس کا قبیلہ آزاد گھومتا تھا۔ یہ جنگل اب جدید دنیا کے تیز رفتار قدموں کے نیچے دب چکا تھا۔ یہاں کی…
کتھا ایک پیپل کی (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
سارے کا سارا پیپل کا درخت کھلکھلا کر ہنس پڑا اور ہنستےہنستے اس کا قد فٹ بھر اور اونچا ہو گیا۔ پرندوں نے پیپل کی ہلتی ہوئی شاخوں پر اپنے پیر دبا لیے۔۔ اور ایک کوا کائیں کائیں کرنے لگا۔ ’’گھبراتے کیوں ہوں بھئی؟ اپنا پیپل کاکا ذرا ترنگ میں آ گیا ہے اور…
جاگیردار (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
وہ بارہ تیرہ سال کی بڑی معصوم شکل چھوکری تھی۔ دروازہ کھلتے ہی پہلے تو مجھے دیکھ کراس نے اپنا ہاتھ جھٹ سے پیچھے کر لیا اور پھر جھجکتے ہوئے اسی ہاتھ کو آگے بڑھا کر بولی، ’’یہ چٹھی۔۔۔‘‘ میں اس کے ہاتھ سے کاغذ کا پرزہ لے کر پڑھنے لگا۔ ’جناب عالی، میں آپ…
بے گور (اردو ادب سے منتخب افسانہ)
کلکتہ کے فائیواسٹار ہوٹل میں ایک کمرے کی گھنٹی کی آواز سن کر امریکی ڈاکٹر دروازہ کھولنے لگا۔ ’’کون؟‘‘ ’’میں رام دین ہوں صاحب۔‘‘ ’’تم آ گئے؟ آؤ میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔‘‘ ’’اگر آپ تیار ہیں تو چلیے۔‘‘ ’’ہاں چلو، کیا پورے پچاس کا انتظام ہو گیا؟‘‘…
بلتھزار کی شاندار دوپہر
پنجرہ تیار ہوگیا تھا۔ بلتھزار نے عادت کے مطابق اسے باہر چھت کے نیچے لٹکا دیا اور جب وہ ظہرانے سے فارغ ہوا تو پورا قصبہ اس بات پر متفق تھا کہ یہ دنیا کا سب سے خوبصورت پنجرہ ہے۔ اسے دیکھنے کے لیے اتنے لوگ آئے کہ گھر کے سامنے ہجوم جمع ہو گیا۔…
سچائی (اطالوی ادب سے منتخب افسانہ)
سارا ارجنٹا کو، جس کی عرفیت ترارا تھی، جوں ہی کمرہِ عدالت کے باقی حصوں سے باڑ لگا کر کٹہرے میں لایا گیا، اس نے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی جیب سے پیلے پھولوں والا ایک سرخ سوتی رومال نکالا اور نشست پر احتیاط سے پھیلا دیا تاکہ اس کے تہوار جیسے لباس پر…
پیتل کا گھنٹہ (منتخب افسانہ)
آٹھویں مرتبہ ہم سب مسافروں نے لاری کو دھکا دیا اور دھکیلتے ہوئے خاصی دور تک چلے گئے، لیکن انجن گنگنایا تک نہیں۔ ڈرائیور گردن ہلاتا ہوا اتر پڑا۔ کنڈکٹر سڑک کے کنارے ایک درخت کی جڑ پر بیٹھ کر بیڑی سلگانے لگا۔ مسافروں کی نظریں گالیاں دینے لگیں اور ہونٹ…
امام دستہ (ہندی ادب سے منتخب افسانہ)
قصبے میں سوکھے میووں کے سب سے پرانے بیوپاری روشن آغا کی کوٹھی میں اس صبح خفگی کا ماحول تھا۔ آنگن میں چمپا کے جھرمٹ میں چھپی چڑیاں چپ تھیں۔ تیسری کلاس میں پڑھنے والا ان کا نواسا، مِیسَم روز کی طرح سلام کر کے ممی سے گال ملانے گیا تو انہوں نے جھڑک دیا۔…