اکبر گبول اور گرینڈ مسجد (افسانہ)
سحر کی گود میں سورج ابھی نیند سے جاگنے کے لیے اپنی آنکھیں مَل رہا تھا۔ فضا میں اذان کی نرم آواز مصری کی ڈلی کی طرح گُھل کر تحلیل ہو رہی تھی۔ پرندے چہچہا کر آہستہ آہستہ اپنے پر تول رہے تھے۔ ’پہوارو‘ کے پہاڑوں پر قائم ایک بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کی ہوا میں…
ایجوکیشن سٹی میں آغا خان ہاسپٹل کی زہریلی ہوائیں
کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے لہو سے ہماری قبروں پہ ’ترقی‘ کی عمارت تعمیر ہو رہی ہے، چاہے وہ پچھلے پچھتر سال سے کراچی شہر کا پھیلتا کنکریٹ کا جنگل ہو، جس میں کراچی کے انڈیجینئس لوگوں کو اپنی ہی زمینوں، گھروں سے بےدخل کیا گیا، ان پچھتر سالوں میں قبضہ مافیا و…